بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قربانی کےلیے ایک جانور خریدنے کے بعد اسے واپس کرکے دوسرا جانور خریدنا

سوال

(الف) سائل نے اپنے گھرانے کے افراد کیلئے قربانی کے لیے ایک گائے خریدی ہے ،جس کے متعلق بعد میں پتہ چلا کہ تین مہینے کی گابھن ہے ، جو اس کام کے ماہر ہوتےہیں ان سے تسلی کرکے یقین دہانی کروائی ہے ۔لہٰذا اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اسی گائے کی قربانی کی جائے یا اس کو چھوڑ کر دوسرا جانور قربانی کےلیے خریداجائے؟  (ب) دوسری عرض یہ ہے کہ جس سے گائے خریدی ہے انہوں نے سوکھی سمجھ کر فروخت کی ہے۔اب جب انہیں پتہ چلا کہ گابھن ہے تو ان کی بھی خواہش ہے کہ انہیں گائے واپس کردی جائے ۔
          اب ہم ان کے ساتھ تعاون کرنے کےلیے انہیں واپس کرکے کسی اور جگہ اپنےلئے دوسرا جانور جو اس سے بہتر بھی یا کم تربھی ہوسکتاہے  خرید سکتے ہیں ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ  چار ماہ سے کم کے گابھن جانور کی قربانی شرعاً درست ہے البتہ اگر جانور قریب الولادۃ  ہو  اور بچہ کے مرنے کا اندیشہ ہوتو اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے تاہم قربانی ہوجائے گی ۔
 سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر جانور خریدنے والاشخص صاحب نصاب ہے تو اس صورت میں یہ گائے واپس کرکے دوسرا جانور خرید سکتاہے ، البتہ پہلے جانور کی قیمت سے کم قیمت کا جانور اگر خریدا تو اس صورت میں زائد قیمت صدقہ کرنا ہوگی ۔
الفتاوى الهندية، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي(5/ 291)رشیدیۃ
وأما الذي يجب على الفقير دون الغني فالمشترى للأضحية إذا كان المشتري فقيرا، بأن اشترى فقير شاة ينوي أن يضحي بها،وإن کان غنیا لا تجب علیہ بشراء شئ۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه) (6/ 326)ايچ۔ايم۔سعيد
(قوله فعلى الغني إحداهما) …  من أنه لو ضحى بالأولى أجزأه ولا يلزمه شيء ولو قيمتها أقل، وإن ضحى بالثانية وقيمتها أقل تصدق بالزائد۔
الفتاوى الهندية، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (5/ 287)رشیدیة
شاة أو بقرة أشرفت على الولادة قالوا يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد، وهذا قول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – لأن عنده الجنين لا يتذكى بذكاة الأم، كذا في فتاوى قاضي خان۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(6/ 325)ايچ۔ايم۔سعيد
(قوله وإن فقيرا أجزأه ذلك) لأنها إنما تعينت بالشراء في حقه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس