راقم الحروف ایک اکیڈمی میں انگلش کا ٹیچر ہے جہاں وہ فرسٹ ایئر ، اور سیکنڈ ایئر والوں کوپڑھاتاہے۔ اکیڈمی میں طلباء وطالبات ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں۔ اگلی صفوں میں لڑکے اور پچھلی صفوں میں لڑکیاں بیٹھی ہوتی ہیں۔ ہمیں ان طلباء وطالبات کو روبرو پڑھانا ہوتاہے اور ان بچوں سے سبق سننا ہوتاہے ۔ علاوہ ازیں ہم اکیڈمی کی طرف سے اس بات کے پابند ہیں کہ نماز اکیڈمی میں پڑھ لیا کریں ، مسجد جانے کی اجازت نہیں۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے اس اکیڈمی میں تدریس کرنا جائز ہے یا نہیں؟کیا ان کی دی ہوئی آمدنی ہمارے لیے حلال ہے یا نہیں ؟
ہماری نیت اس اکیڈمی میں تدریس کی یہ ہوتی ہے کہ ان طلباء وطالبات کو صحیح مسلمان اور صحیح العقیدہ انسان بنایا جائے۔ خصوصاً اس پر فتن دور میں جہاں ان خالی الذہن بچوں کو عجیب وغریب قسم کے افکار ونظریات کا سامنا کرنا پڑتاہےکیا ان اداروں میں ایک باشرع استاد کے پڑھانے کی گنجائش ہے؟
شریعت کا اصل حکم تو یہی ہے کہ مردوں اور عورتوں کا آپس میں اختلاط نہ ہو –اور تعلیمی اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ تعلیم دینا حکومت اور مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے –البتہ جب تک یہ انتظام نہ ہو سکے تو ضرورت اور مجبوری کی صورت میں ایسے تعلیمی اداروں میں دل اورنگاہ کی حفاظت کرتے ہوئے پڑھنے اور پڑھانے کی گنجائش ہے۔اور اس کے ذریعے سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے تاہم آپکو چاہیے کہ کوئی ایسا ادارہ تلاش کریں جس میں یہ مفاسد نہ پائے جاتے ہوں۔
اور اگر کوئی ادارہ کسی ناگزیر ضرورت کے بغیر جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز کی اجازت نہیں دیتا تو ایسی صورت میں ادارے کے ذمہ داران گناہ گار ہوں گے۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ کو چاہیے کہ آپ ادارے کے ذمہ داران کو نرمی کے ساتھ اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دیں ۔اگر پھر بھی وہ اجازت نہیں دیتے تو آپ کے لیے اکیڈمی میں بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے اور انفرادی پڑھنے کی بجائے جماعت کروالیا کریں ۔