میں اور میری بیوی دیہاتی ہیں اور میری بیوی ان پڑھ ہے اور ہم یہاں لاہور میں کرایہ کے مکان پر رہتے ہیں۔ گھر میں خرچہ وغیرہ کی وجہ سے معمولی لڑائی جھگڑا تو ہوتا رہتا تھا۔ کچھ ماہ پہلے کسی کے اکسانے پر وہ کچہری چلی گئی وہاں جاکر ایک وکیل سے بات کر کے کچہری سے خلع نامہ کی ڈگری جاری کروالی اور اس کے وکیل نے اس سے 20 ہزار روپے وصول کرلیے اور مجھے اس کے بارے کچھ علم نہیں، نہ کسی نے مجھے نوٹس بھیجے اور نہ ہی میں نے کسی کاغذ پر دستخط یا انگوٹھا لگایا ہے ۔ اور وہ میرے ساتھ رہتی رہی ہے۔ دس یا پندرہ دن پہلے مجھے کہا کہ میں نے کچہری سے خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔ اب ہماری طلاق ہوگئی ہے اور وہ اپنے میکہ میں چلی گئی ہے۔ہمارے لیے اب کیا حکم ہے؟
قرآن و سنت کی رو سے یکطرفہ خلع معتبر نہیں، بلکہ شوہر کی رضامندی ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتہً آپ کے علم میں لائے بغیر اور آپ کو نوٹس بھیجے بغیر یکطرفہ عدالتی خلع جاری کیا گیا تو ایسی صورت میں شرعاً یہ خلع معتبر نہیں اور آپ دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے اور آپ دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں۔