بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

سوال

میں اور میری بیوی دیہاتی ہیں اور میری بیوی ان پڑھ ہے اور ہم یہاں لاہور میں کرایہ کے مکان پر رہتے ہیں۔ گھر میں خرچہ وغیرہ کی وجہ سے معمولی لڑائی جھگڑا تو ہوتا رہتا تھا۔ کچھ ماہ پہلے کسی کے اکسانے پر وہ کچہری چلی گئی وہاں جاکر ایک وکیل سے بات کر کے کچہری سے خلع نامہ کی ڈگری جاری کروالی اور اس کے وکیل نے اس سے 20 ہزار روپے وصول کرلیے اور مجھے اس کے بارے کچھ علم نہیں، نہ کسی نے مجھے نوٹس بھیجے اور نہ ہی میں نے کسی کاغذ پر دستخط یا انگوٹھا لگایا ہے ۔ اور وہ میرے ساتھ رہتی رہی ہے۔ دس یا پندرہ دن پہلے مجھے کہا کہ میں نے کچہری سے خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔ اب ہماری طلاق ہوگئی ہے اور وہ اپنے میکہ میں چلی گئی ہے۔ہمارے لیے اب کیا حکم ہے؟

جواب

قرآن و سنت کی رو سے یکطرفہ خلع معتبر نہیں، بلکہ شوہر کی رضامندی ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتہً آپ کے علم میں لائے بغیر اور آپ کو نوٹس بھیجے بغیر یکطرفہ عدالتی خلع جاری کیا گیا تو ایسی صورت میں شرعاً یہ خلع معتبر نہیں اور آپ دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے اور آپ دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ حکم اس صورت میں ہے جب عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی ہو لیکن اگر عدالت نے عورت کی جانب سے تنسیخ نکاح کے مطالبہ پر نکاح فسخ کیا ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکم شرعی معلوم کریں اور دعویٰ اور عدالتی فیصلہ کی فوٹو کاپی بھی ہمراہ منسلک کریں۔
المبسوط، شمس الأئمةمحمدبن أحمد السرخسي(م:483هـ) (6/ 173) بيروت
والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.
قال الله تعالى
{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229]
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(4/417)سعيد
 قال في الفتح: ومنها أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل وغلبة الهوى ونقصان الدين
الفتاوی التاتاخانیة،العلامةفرید الدین الدهلوی (م:786هـ)(5/5)فاروقية
الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی