بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ہوائی جہاز میں نماز کس ملک کے ٹائم کے حساب سے پڑھی جائے گی

سوال

ایک شخص ہوائی جہاز کا سفر کر رہا ہے اور اس نے سفر کرنے سے پہلے ظہر کی نماز اپنے وطن میں پڑھ لی ۔ اب آگے جو ان کاسفر ہے وہ 18 ،20 گھنٹےکا سفر ہے تو اب وہ شخص جہاز کے اندر کس ملک کے ٹائم کے اعتبار سے نماز پڑھے گا کیونکہ ہر ملک کا اپنا الگ ٹائم ہوتا ہے ۔

جواب

جہاز کے سفر کےدوران جس ملک کی فضائی حدود میں سفر جاری ہو اس ملک کے اوقات کے اندازے سے یا جہاز کے عملے سے پوچھ کر اس کے مطابق نماز یں ادا کی جائیں تا ہم مغرب کی نماز کے لیے ضروری ہے کہ جب تک جہاز میں سورج نظر آ رہا ہو نماز نہ پڑھیں اگرچہ جس ملک سے گزر رہا ہو وہا ں مغرب ہو چکی ہو ۔
بدائع الصنائع (2/225)
وحكي عن أبي عبد الله بن أبي موسى الضرير أنه استفتي في أهل إسكندرية أن الشمس تغرب بها ومن على منارتها يرى الشمس بعد ذلك بزمان كثير. فقال: يحل لأهل البلد الفطر ولا يحل لمن على رأس المنارة إذا كان يرى غروب الشمس لأن مغرب الشمس يختلف كما يختلف مطلعها فيعتبر في أهل كل موضع مغرب.
رد المحتار (2/ 420)
 قال في الفيض: ومن كان على مكان مرتفع كمنارة إسكندرية لا يفطر ما لم تغرب الشمس عنده ولأهل البلدة الفطر إن غربت عندهم قبله وكذا العبرة في الطلوع في حق صلاة الفجر أو السحور.
رد المحتار (2/ 371)
والمراد بالغروب زمان غيبوبة جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة الشرق قال  صلى الله عليه وسلم    إذا أقبل الليل من هنا فقد أفطر الصائم أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد ظهر وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم لأن الليل ليس ظرفا للصوم.
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس