بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گھٹنوں میں شدید تکلیف کی وجہ سے سجدے میں جانا تکلیف کا باعث ہو تو کیا حکم

سوال

زید کے گھٹنوں میں ایسی شدید تکلیف لاحق ہے ؛جس کی وجہ سے دورانِ نماز قیام سےسجدے میں جانا یا دوبارہ کھڑا ہونا سخت مشقت کاباعث ہے اگرچہ وہ زمین پرسجدہ کرنے کی استطاعت رکھتاہے ،ایسی صورت میں زید کے لئے نماز کادرست اورافضل طریقہ کیاہوگا؟ کیاوہ قیام کےبعدرکوع کرکےکرسی پربیٹھ جائے اور اشارے سےسجدہ کرے؟یاابتداہی سےبیٹھ کرنمازاداکرےاورسجدہ زمین پرکرے؟یاشریعت میں اس کےلئےکوئی اور صورت موجودہے؟

جواب

سجدے میں جانا

ایسے شخص کے لئےنمازاداکرنےکاطریقہ یہ ہےکہ پہلی رکعت کاقیام اوررکوع کھڑےہوکر اپنی اصل حالت میں اداکرنے کےبعدسجدہ کے لئےزمین پربیٹھ جائےاوربقیہ نمازرکوع سجدہ کےساتھ بیٹھ کرادا کرلے ، اوراس کے لئےیہی افضل طریقہ ہے،نیزیہ شخص کرسی پربھی نمازادا کرسکتاہے،اورکرسی پر نماز ادا کرنے کی صورت میں باقاعدہ کھڑےہوکر قیام اوررکوع کرے ۔(ماخذہ :ُکرسی پرنمازکے مسائل( ص:۳۱،۳۲)،کتاب المسائل(۱/۵۶۷)،فتاوی عثمانیہ( ۳/۱۳۰)) اور کرسی پر نماز ادا کرنے کی صورت میں باقاعدہ کھڑے ہو کر قیام اور رکوع کرلے ۔ کرسی پر نماز پڑھنے کا مستقل طریقہ فتوی کے ساتھ منسلک ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 136):
إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد…. العجز أن يلحقه بالقيام ضرر وعليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس، كذا في التبيين أو يجد وجعا لذلك .
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 76)رشيديۃ:
 إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد ” لقوله عليه الصلاة والسلام ” صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى الجنب تومئ إيماء ” ولأن الطاعة بحسب الطاقة.
الدر المختار (2/ 95) رشيديۃ:
(من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) (صلى قاعدا) (وإن تعذرا-القیام والسجود-) …( أومأ) ۔۔۔(قاعدا) (ويجعل سجوده أخفض من رکوعہ) على أنه إيماء لا سجودإلاأن يجد قوة الأرض    كلهم متفقون على التعليل بأن القيام سقط لأنه وسيلة إلى السجود.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 6) رشيديه:
 (وإن قدر على القيام ولم يقدر على الركوع والسجود لم يلزمه القيام ويصلي قاعدا يومئ إيماء) ؛ لأن ركنية القيام للتوسل به إلى السجدة لما فيها من نهاية التعظيم، فإذا كان لا يتعقبه السجود لا يكون ركنا فيتخير، والأفضل هو الإيماء قاعدا؛ لأنه أشبه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس