بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گاڑی (بس وغیرہ)میں سفر کرتے ہوئےنمازکاوقت آجائےاور گاڑی نہ رُکے۔

سوال

 اگرایک شخص مسافرسواری(گاڑی)میں بیٹھاہوااورنمازکاوقت آگیااورحال یہ  ہے کہ گاڑی رُکتی نہیں ہےتو اس کےلئےنماز کاکیاحکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سب سےپہلےیہ کوشش کرنی چاہیےکہ حکمت ونرمی کےساتھ گاڑی رُکواکر اترجائیں اورکسی جگہ سکون سےنمازاداکرلیں لیکن اگرکوشش کےباوجودنہ رُکےتوپھرایسی صورت میں گاڑی میں کھڑےہوکرقبلہ رُونمازپڑھناممکن ہواور وضو بھی  ہوتوگاڑی  میں  قبلہ  رُوکھڑے ہو کرنماز اداکرلیں  اگر چہ  اس  میں  کسی  قدر  مشقت  محسوس  ہو۔ لیکن  اگر گاڑی  میں  کھڑے  ہو کرنمازپڑھناممکن  نہ  جیساکہ عمومًابسوں میں یہ صورت  پیش آتی  ہےیاقبلہ  رو نہ  ہوسکتےہوں یا  وضونہ   ہواوروقت  ختم  ہونے کا خوف  ہوتو تیمم  کرکے یا بغیر تیمم کےاشارے کے  ساتھ  جیسے بھی  ہوسکے وقت  کے اندر نمازیوں کےساتھ مشابہت اختیار کرلیں اور بعدمیں  اس  کااعادہ  کرلیں ۔ البتہ  واضح  رہے کہ  مذکورہ تفصیل  فرض  وواجب  نماز  سےمتعلق  ہے نفل  نما ز سیٹ  پربیٹھے بیٹھے بھی  ادا  ہوجائے گی ۔
الدرالمختار،العلامةعلاء الدين الحصكفي(م:1088هـ)(2/40)دارالفكر
(وأما الصلاة على العجلة إن كان طرف العجلة على الدابة وهي تسير أو لا) تسير (فهي صلاة على الدابة، فتجوز في حالة العذر) المذكور في التيمم (لا في غيرها) ۔
الفتاوى الهندية(1/143)دارالفكر
ولا تجوز المكتوبة على الدابة إلا من عذر، هكذا في فتاوى قاضي خان۔
البحر الرائق،العلامةابن نجيم المصري(م:970هـ)(1/149)دارالكتاب الإسلامي
فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة وإن كان من قبل العبد وجبت الإعادة ۔

ملحوظہ:  گاڑی میں اشارے کےساتھ بیٹھےبیٹھےنمازپڑھنےکی صورت میں بہتریہ ہےکہ آس پاس بیٹھے

لوگوں کو  بتادیاجائےکہ یہ محض نمازیوں کے ساتھ مشابہت  اختیارکرنےکےلئےہےبعدمیں اس نماز کا اِعادہ  کرنا   ضروری ہےتاکہ  کسی  کوغلط فہمی نہ ہواور کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھےکہ اس طرح سیٹ پربیٹھےبیٹھےاشارے سےنماز ادا ہوجاتی ہے۔  )

 حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 117)دارالكتب العلمية بيروت
 وقالا يتشبه بالمصلين وجوبا فيركع ويسجد إن وجد مكانا يابسا وإلا يومىء قائما ثم يعيد به يفتي وإليه صح رجوع الإمام ثم قال ومعنى التشبه بالمصلين أن لا يقصد بالقيام الصلاة ولا يقرأ شيئا وإذا حنى ظهره لا يقصد الركوع ولا السجود ولا يسبح اهـ وتحصل منه أن التشبه متفق عليه وإنه بالركوع والسجود لا بالإيماء على ما عليه الفتوى۔
فتاوی قاسمیہ،مفتی شبیر احمد القاسمی(9/765)دار الاشاعت

اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بس میں آلہ تیمم نہیں ہوتا اور پانی بھی نہیں ہوتا اس لئے مصلی کی صورت بنالے، پھر جہاں جاکر اترجائے وہاں پر باضابطہ وضو کے بعد نمازکی قضاء کر لینا لازم ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس