ایک گاؤں میں سوگھر ہیں دوسرےگاؤں میں تقریباچالیس گھر ہیں،دونوں گاؤں میں جمعہ بھی پڑھایاجاتا ہےاورعیدکی نماز یں بھی پڑھائی جاتی ہے۔آیاان دونوں گاؤں میں یہ کام جائزہےیانہیں؟
جمعہ اورعیدین کی صحت کےلئےشہریاقصبہ کا ہوناضروری ہے۔اورقصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں آبادی چارہزارکےقریب یااس سےزیادہ ہواورایسابازارموجودہوجس میں دوکانیں چالیس پچاس متصل ہوں اوربازار روزانہ لگتاہواوراس بازارمیں روزمرہ کی ضروریات ملتی ہوں مثلا:جوتےکی دوکان بھی ہواورکپڑےکی بھی ہو،غلہ کی بھی اوردودھ گھی کی بھی،اوروہاں ڈاکخانہ بھی ہو،اورڈاکٹریاحکیم بھی ہوں، معماراورمستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ،اورپولیس یاچوکی بھی ہواوراس میں مختلف محلّےمختلف ناموں سے موسوم ہوں۔چنانچہ جس بستی یاگاؤں میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ اورعیدین کی نمازاداکرناصحیح ہےاور جہاں یہ شرائط موجودنہ ہوں وہاں جمعہ اورعیدین کی نمازاداکرنا درست نہیں۔مذکورہ شرائط آپ کےگاؤں میں پائی جاتی ہےیانہیں اس کافیصلہ بااثر مقامی علماءکوجگہ دکھاکرکروائیں، اگریہ شرائط پائی جاتی ہوں توجمعہ جاری رکھیں اور اگر نہ پائی جاتی ہوں توحکمت ومصلحت کے ساتھ اس کو ختم کرنےکی کوشش کریں۔
البحر الرائق،العلامةابن نجيم المصري (م:970هـ) (2/245) رشیدیة کوئتة
شرط أدائها المصر وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود.(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي- رضي الله عنه-لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام،محمد بن فرامرز (م:885هـ) (1/137)ط:دار إحياء الكتب العربية
وقال الزيلعي قال أبو حنيفة – رحمه الله – المصر كل بلدة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق ووال ينصف المظلوم من الظالم وعالم يرجع إليه في الحوادث وهو الأصح اهـ.۔
(تبيين الحقائق، فخر الدين الزيلعي الحنفي(م:743هـ) (1/217) الأميريةبولاق،القاهرة)
(النهر الفائق،سراج الدين عمر بن إبراهيم بن نجيم الحنفي(م:1005هـ) (1/352) دار الكتب العلمية)