بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گاؤں”کوٹ شہاب الدین” تحصیل چونیاں میں نمازِ جمعہ کا حکم

سوال

ہماری بستی “کوٹ شہاب الدین تحصیل چونیاں ” میں تقریباً پچیس گھر ہیں ۔ جن میں تقریباً نوے افراد بالغ ہیں ۔ہم اپنی بستی میں جمعہ پڑھنے کے حوالے سے پریشان ہیں ۔ایک فریق کہتا ہے “یہاں نمازِ جمعہ نہیں ہوتی کیونکہ شرائط نہیں پائی جاتیں۔
فریقِ ثانی کہتا ہے کہ یہاں نمازِ جمعہ ہو سکتی ہے جبکہ شہری آبادی ہم سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔تو کیا مذکورہ بستی میں جمعہ کا قیام درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی جگہ نمازِ جمعہ درست ہونے کے لیے اس جگہ کا”شہر “یا “قصبہ ” ہونا ضروری ہے۔نیزایسا بڑا گاؤں جس کی آبادی تقریباًچار ہزار یا اس سے زائد ہو،اس میں سڑکیں، ، ڈاکخانہ،تھانہ،مختلف ناموں سے موسوم محلے اور ایسا بازار ہو جس میں تیس چالیس متصل دکانیں ہوں اور اس بازار میں ضروریاتِ زندگی سے متعلق تمام اشیاء جیسے :کپڑے ،جوتے ،غلہ ،گوشت ،سبزی ،دودھ وغیرہ کی دکانیں ہوں تو وہ شہر کے حکم میں ہے اور وہاں بھی نمازِ جمعہ جائز ہے ۔(ماخذہ :امداد الاحکام 756/1, ،ط:دارالعلوم)
سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال اور مندرجہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ آپ کا گاؤں “کوٹ شہاب الدین ” مذکورہ شرائط پر پورا نہیں اترتا لہٰذا یہاں نماز ِ جمعہ قائم کرنا درست نہیں ۔یہاں کے مقامی افراد جمعہ کے دن اپنے گاؤں کی مسجد میں نمازِ ظہر باجماعت ادا کریں گے ۔ اگر یہیں اپنے گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھی تو ظہر کی نماز بدستور ذمہ میں باقی رہے گی۔ نیز ہر ایک کو چاہیے کہ انتشار کو فروغدینے سے گریز کرے۔
مصنف عبد الرزاق ا (3/ 301)
عن علي قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع
الدر المختار مع حاشیۃابن عابدين(2/137)
 (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح
الدر المختار (2/ 138)
و فناؤه بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا  كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي
رد المحتار(2/ 138)
 لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس