بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر یا آواز ریکارڈ کرکے نشر کرنا/دوران امامت امام کا مکمل محراب میں کھڑا ہونا

سوال

نمبر۱۔ پوچھنا تھا کہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصویر لینا یا کسی کے بچوں کی فوٹو لینا اسی طرح کسی کی جگہ پر آدمی جائے اور صاحب مکان و دکان کی اجازت کے بغیر کسی بھی چیز کی تصویر لینے کا کیا حکم ہے؟قطع نظر اس کے کہ نفس تصویر از کیمرہ جائز ہے یا ناجائز؟ اسی طرح کسی کی باتوں ، آواز کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا اور پھر نشر کرنا شرعی اخلاقی طور پر کیا حکم رکھتا ہے؟
نمبر۲۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہماری مسجد محلہ میں امام صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ ورعاہ کا مصلی محراب کے بالکل برابر ہے جبکہ ہم نے سنا ہے کہ مصلی امام ایک قدم باہر ہونا چاہیے درست کیا ہے؟

جواب

نمبر۱۔ کسی شخص کی صراحتاً یا دلالتاً اجازت یا رضامندی کے بغیر اسکی یا اسکے متعلقات کی تصویر لینا ، بات وغیرہ ریکارڈ کرنا اور نشر کرنا جائز نہیں ہے۔
نمبر۲۔ امامت کے لیے محراب میں مکمل کھڑے ہونا مکروہ تنزیہی ہے البتہ جگہ کی قلت اور جگہ کی دشواری اور نمازیوں کی کثرت کے وقت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں۔
:مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/3166)دارالفکر
وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” ‌المجالس ‌بالأمانة إلا ثلاثة مجالس) أي: إحدى الثلاثة من المجالس، والمعنى ينبغي للمؤمن إذا رأى أهل مجلس على منكر أن لا يشيع ما رأى منهم إلا ثلاثة مجالس (سفک دم): بالرفع بتقدیر ھی مجلس ارقۃدم( حرام) ، بالجر صفۃ دم ای دم حرام سفکہ او دم محترم فی الشرع( او فرج حرام، او اقتطاع مال بغیر حق)۔
:الفتاوى الهندية (1/120)بیروت
ويكره قيام الإمام وحده في الطاق وهو المحراب ولا يكره سجوده فيه إذا كان قائما ‌خارج ‌المحراب هكذا في التبيين وإذا ضاق المسجد بمن خلف الإمام فلا بأس بأن يقوم في الطاق. كذا في الفتاوى البرهانية۔
:رد المحتار(1/647) سعید
عن ابی اللیث: لا یکرہ قیام الامام فی الطاق عند الضرورۃ بان ضاق المسجد علی القوم۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس