بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کسی عورت کا اپنے بہنوئی اور بہن کے ساتھ عمرہ پر جانا

سوال

ایک بوڑھی عورت اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

شرعاً عورت کے لئے بغیر محرم کے حج و عمرہ کا سفر کرنا جائز نہیں۔ اگرچہ وہ بوڑھی ہو۔اور بہنوئی سالی کے لئے شرعاً محرم نہیں ہے۔اس لئے مذکورہ عورت کے لئے اپنے بہنوئی اور بہن کے ساتھ عمرہ پر جانا جائز نہیں۔
البحر الرائق، کتاب الحج (2/552) مکتبة رشیدیة
ویشترطفی الحج المراۃ من سفر زوج او محرم بالغ۔۔۔ واطلق المراۃ فشمل الشابة والعجوز لاطلاق النصوص۔
الفتوی التاتارخانیه، کتاب الحج (3/474) مکتبة فاروقیة
والمحرم فی حق المراۃ شرط، شابه کانت او عجوزۃ۔۔۔والمحرم الزوج ومن لا یجوز مناکحتھا علی للتابید برضاع او صھریة۔
الفتوی التاتارخانیه، کتاب الحج (3/475) مکتبة فاروقیة
وفی شرح الطحاوی:والمراۃ فی وجوب الحج علیھا کالرجل غیران لھا شرطین شابة  کانت عجوزا، احدھما:ان یکون خروجھا مع الزوجھا او مع ذی رحم. والشرط الثانی :ان تکون خالیة عن العدۃ وفاۃ کانت او لزمتھا العدۃ بعد الخروج الی الحج۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس