اگرکوئی آدمی کسی حادثہ میں مرجائے،مثلاً :پانی میں ڈوب کریاآگ میں جل کریاپھرکسی ٹریفک حادثہ میں توایسےشخص کوغسل دیاجائےگایانہیں؟اوراس کی نمازِجنازہ پڑھی جائی گی یانہیں اور اگرکوئی شخص آگ میں جل کرراکھ ہوجائےتواس کی نمازِجنازہ کاکیاطریقہ ہوگا ؟
الف۔ جوشخص پانی میں ڈوب کر مر جائے اور لاش پھولی ہوئی یا پھٹی ہو ئی نہ ہو تو اسے نکالنے کے بعد غسل دینا ضروری ہے پانی میں ڈوبنا غسل کے لئے کافی نہیں، ہاں اگر پانی سے نکالتے وقت غسل کی نیت سے میت کو پانی میں حرکت دے دی جائے تو غسل ہوجائے گا ،لیکن اگر لاش اس قدر پھول جائے کہ غسل کے لئے ہاتھ لگانے سے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو صرف پانی بہا دینا کا فی ہے ،اس کے بعد کفن دے کر نمازِ جنازہ ادا کرنا ضروری ہے،البتہ اگرغسل دینے اور نمازِ جنازہ اداکرنے سے پہلے لاش پھٹ جائے تو اسےنہ تو غسل دیاجائے اور نہ ہی اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے ، غسل اور نمازِ جنازہ کے بغیر کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے۔
ب۔ آگ میں جل کر فوت ہونے والے شخص کے بدن کا اکثر حصہ جلنے سے محفوظ ہو اگر چہ سر جل گیا ہو یا سر کےساتھ آدھا بدن محفوظ ہو یا پورا جسم اس طرح معمولی جلا ہو کہ گوشت،پوست اور ہڈیاں سالم ہوں تو اس کو غسل بھی دیا جائے اور اس کی نمازِ جنازہ بھی اداکی جائے، لیکن اگر جسم جل کر بالکل راکھ بن گیا ہو یا بدن کا اکثر حصہ جل کر خاکستر ہوگیا تو اس کو غسل و کفن دینا اور اس کی نمازِ جنازہ اداکرنا ضروری نہیں ، کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دینا چاہئے ۔
ج۔جو شخص کسی ٹریفک حادثے میں فوت ہوجائے اور بدن کا اکثر حصہ یا سر کے ساتھ آدھابدن محفوظ ہوتو اسے غسل وکفن دےکر اس کی نمازِ جنازہ اداکی جائے گی ورنہ نہیں ۔(مأخذھٰذہ المسائل :احکام ِمیت (ص:112تا 114) مکتبہ عثمانیہ راولپنڈی)
مصنف ابن أبي شيبة، عبد الله بن محمد (م: 235هـ)(2/459 )مكتبة الرشد
عن عطاء، قال: «يغسل الغريق، ويكفن، ويحنط، ويصنع به ما يصنع بغيره»۔
حاشية الطحطاوي، أحمد بن محمد الطحطاوي (م:1231ھ) (1 / 592 ) دار الكتب العلمية
فإن تفسخ لا يصلى عليه مطلقا لأنها شرعت على البدن ولا وجود له مع التفسخ۔
بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني(م: 587هـ) (1 / 302 ) دار الكتب العلمية
لو وجد الأكثر منه غسل؛ لأن للأكثر حكم الكل، وإن وجد الأقل منه، أو النصف لم يغسل … وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي أنه إذا وجد النصف ومعه الرأس يغسل، وإن لم يكن معه الرأس لا يغسل فكأنه جعله مع الرأس في حكم الأكثر؛ لكونه معظم البدن،ولو وجد نصفه مشقوقا لا يغسل لما قلنا.فقط. واللہ اعلم۔