بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں والدہ کے ترکہ کی تقسیم/تین بھائی اور ایک بہن میں ترکہ کی تقسیم/ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ایک وارث فوت ہو جائے/عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد رات کے پہر میں اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنا/نفل نماز میں ایک ہی رکعت میں دو سورتوں کی تلاوت کرنا

سوال

مسئلہ اوّل
(وراثت): بیوہ والدہ جو آدھے مکان کی مالک تھی اور اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے؛ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی۔نیز اگر والدہ کی وفات کے بعد ورثا کے نام پر انتقال سے پہلے کوئی وارث ( جس کی نرینہ اولاد ہے)بھی فوت ہو جائے تو وراثت کی کیا ترتیب ہو گی؟
مسئلہ دوم
آدھے گھر کے مالک بڑے بھائی ہے جس کی نہ اولاد ہے نہ بیوی، مگر اس کے تین بھائی اور بہن موجود ہیں۔ اس حالت میں کون کون وارث ہے اور کس مقدار میں وارث ہے۔
مسئلہ سوئم
کسی جائیداد کی ورثا میں تقسیم ہونے سے پہلے اگر ورثا میں سے کوئی ایک ورث بھی فوت ہو جائے تو کیا اس کا حصہ اس کی اولاد کو منتقل ہو گا ؟
مسئلہ چہارم
اگر عشا کی نماز ادا کر کے آدمی سو جائے تب بھی رات کے پہر میں اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کر سکتا ہے؟
مسئلہ پنجم
کیا نوافل، صلاۃ حاجت اور صلاۃ تسبیح میں لمبی رکعت کی غرض سے ہر رکعت میں ایک سے زیادہ سورتوں کی تلاوت کر سکتے ہیں؟

جواب

نمبر ۱۔صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نےبوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد، مکان،سونا، چاندی، نقدی، برتن، کپڑے غرض ہر قسم کاچھوٹا بڑا ساز وسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کاترکہ ہے۔ سب سے پہلے مرحومہ کے کفن ودفن کے اخراجات ترکہ میں سے منہاکریں بشرطیکہ کسی نے بطور تبرع ادا نہ کئے ہو ، پھر اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو وہ تركہ میں سے ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں اگر مر حومہ نے غیر وارث کے حق میں کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (۱/۳) مال کی مقدار تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد کل مال کے مساوی نو حصے کر کے ہر بیٹے کو (دو) حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دے دیا جائے بشرطیکہ کوئی اور شرعی وارث نہ ہو۔
ترکہ کی تقسیم سے پہلے اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو مرحومہ کے ترکہ سے ملنے والا حصہ مرحوم کے دیگر ترکہ کے ساتھ مل کر اس کے ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
نمبر۲۔ ایسی صورت میں اس کی جائیداد کے سات مساوی حصے کر کے ہر بھائی کو دو، دو حصے اور بہن کو ایک حصہ دیا جائے بشرطیکہ کوئی اور شرعی وارث نہ ہو۔
نمبر۲۔ جی ہاں، اس کا حصہ اس کے دیگر ترکے کے ساتھ مل کر اس کے شرعی ورثا میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا ۔
نمبر۳۔جی ہاں، ادا کر سکتا ہے۔
نمبر۴۔ جی ہاں۔ کر سکتا ہے۔
رد المحتار (1/ 546)سعيد
وفي التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. وذكر شيخ الإسلام لا ينبغي له أن يفعل على ما هو ظاهر الرواية
وفي شرح المنية: الأولى أن لا يفعل في الفرض ولو فعل لا يكره إلا أن يترك بينهما سورة أو أكثر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس