کیا فرماتے ہیں فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ اگر کوئی شخص کسی کو قرآن مجید کی تلاوت کیے بغیر صرف تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کردے تو کیااسے پورے قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب ملے گا؟ نيز ميت كے ايصال ثواب كے ليے دوسرے لوگوں سے ذكرو تلاوت كا ثواب حاصل كرنے كا رواج چل پڑاہے اس كے بارے ميں كيا حكم ہے؟
قرآن مجید کا ثواب مرحوم کو پہنچانا درست ہے اور احادیث مبارکہ کی رو سےایک مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھنے کا ثواب ایک قرآن مجید کے برابرہے اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہےكہ ایک مرتبہ قرآن مجید کا ثواب حاصل ہو گیا لیکن بہتر یہ ہے کہ سوال کرنے والے کے سامنے اس حقیقت کو واضح کر دیا جائے۔ نیز سوال میں ذکر کردہ طریقہ اختیار کرنا مناسب نہیں كہ کسی سے ایصال ثواب کیلئےقرآ ن مجید پڑھنے کو طلب کیا جائے بلکہ اپنے مرحومین کے لیے خود حسبِ توفیق قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ و خیرات سے ایصال ثواب کا اہتمام کیا جائے۔
فیض الباری(5/281)العلمیۃ کوئتۃ
وأما من قرأ (قل ہو اللہ احد ) ثلاث مرات ،فإنہ لم یقرأ في الخارج إلا ھذہ،ولم یقرأ ثلث القرآن ،فکیف یحرز أجرۃ الانعامي،وإنما جری ذکر ثلث القرآن لبیان الحساب فقط ،فأجرہ لايکون إلا بقدر عملہ ولم یعمل في الخارج …فإن التضعیف إنما یعتبر فیما خرج من القوۃ إلی الفعل
شرح مشكل الآثار (3/ 251) مؤسسة الرسالة
عن أبي مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” أيعجز أحدكم أن يقرأ ثلث القرآن في كل ليلة؟ ” فكبر ذلك في أنفسهم، قال: ” الله الواحد الصمد ثلث القرآن ” قال أبو جعفر: ففي هذه الأحاديث أن قل هو الله أحد ثلث القرآن، بمعنى أنها ثلث القرآن بالثواب بها , وقد روي أنها تعدل ثلث القرآن