ہمارے والد محترم وکالت کے پیشہ سے وابستہ تھے ابھی تین ہفتہ پہلے وبائی مرض ( کرونا ) میں ان کا انتقال ہو گیا ، وہ دین کے معاملے میں بہت چست تھے، صوم و صلوۃ اور تلاوت واذ کار کے بہت پابند تھے، آخری وقت یسین شریف پڑھی اور ذکر فکر کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
الغرض – والد محترم اینٹی کرپشن اور کریمنل کیس کے چار اضلاع میں بہت ہو نہار، ہوشیار اور نامور وکیل تھے ، اور پچھلے چالیس سال سے اس پیشے سے وابستہ رہے، سوال یہ ہے کہ والد مرحوم کے پاس فی الحال سو سے زائد فائل پینڈنگ ہے، جن لوگوں کے مقدمہ لئے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ نہ کچھ فیس وصول کی ہے جیسے جیسے کیس ہوتے اسی حساب سے فیس وصول کرتے رہتے تھے ۔ اور یہ فیس ہمارے اندازے کے مطابق بہت بڑی رقم ہوتی ہے، اور جو فیس لی ہے اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے اور بعض فائلوں پر کوڈ ورڈ میں لکھا ہوا ہے جس کا سمجھنا بہت ہی مشکل ہے، کچھ مقدمہ پچاس فیصد کچھ اسی فیصد چل چکے ہیں ،اور کچھ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن اصیلوں نے فیس جمع کی ہے ان کی فیس لوٹائی جائے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں وکلاء کی جماعت سے بات چیت کی گئی، جو والد مرحوم کے ہمدرد اور دوست ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے وکالت کے پیشے میں فیس وصول ہونے کے بعد کیس چلنے لگے ، فائل بن جائے اور وکیل کا انتقال ہو جائے تو فیس واپس نہیں کی جاتی ، ان کا کہنا ہے کہ ہم کیس کی فائل تیار کر کے ان کا مطالعہ کرتے ہیں اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کئی فیصلے جو ہمیں کام آسکتے ہے بڑی محنت کر کے وقت کی قربانی دیکر معین وکلاء کی مدد سے تیار کرتے ہیں ۔یہ سب کام کورٹ میں مدت پر حاضر ہونے سے پہلے ہوتے ہیں، حاصل یہ ہےکہ مسلم و غیر مسلم وکلاء کی رائے کے مطابق فیس واپس نہیں کی جاتی ہے۔ کا غذات اور فائل واپس کی جاتی ہے ۔
حضرت مفتی صاحب سے درخواست ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری رہبری فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
شریعت میں یہ اصول ہے کہ آدمی جتنا کام کرتا ہے اتنی ہی اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کے والد صاحب نے مقدمات کی فیس یک مشت نہیں لی تھی، بلکہ جیسے جیسے کیس آگے بڑھتے تھے اس حساب سے فیس وصول کرتے تھے تو وہ فیس آپ کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اگر کسی سے فیس لی تھی لیکن جس مرحلے کے لیے فیس لی وہ کام مکمل نہیں کیا تو اس فیس کے آپ کے والد مستحق نہیں یا تو ان کو وہی فیس واپس کر دیں یا پھر مالکان کی اجازت سے ان کے لیے اپنے والد کی جگہ کوئی دوسرا وکیل منتخب کریں ۔اور جن فائلوں پر فیس کوڈورڈ سے لکھی ہوئی ہو تو اصل مالکان سے دریافت کریں اور اگر ان کی بات پر یقین نہ ہو تو ان سے گواہ بھی طلب کر سکتے ہیں ۔
الفتاوي السراجية، سراج الدین علی بن عثمان الأوسی (م:569هـ)(ص:466)دار العلوم زكريا، افريقه
الأجرة لا تملك إلا بالتعجيل أو باشتراط التعجيل أو باستيفاء ما هو الأجرة بدل عنه
الموسوعة الفقهية الكويتية،هیئة کبار علماء الاسلام (45/ 106)وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت
تبطل الوكالة بموت الموكل أو الوكيل باتفاق الفقهاء. وذلك لأن الموت مبطل لأهلية التصرف، فإذا مات الموكل أو الوكيل بطلت أهليته بالموت فتبطل الوكالة
الفتاوی الهندية ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (3/ 406)رشيدية
ولو أن رجلا قدم رجلا إلى القاضي وقال: إن أبا هذا قد مات ولي عليه ألف درهم دين… وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا – رحمهم الله تعالى بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه.فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه