بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وکیل نے قربانی کی رقم فلاحی ادارے کو نہیں دی یہاں تک کہ ایام اضحیہ گزر گئے

سوال

عمرو نے بکر کو ایک گائے کی قربانی کے لیے گائے کی رقم دی  کہ فلاں رفاہی ادارے کو دے دے۔اب بکر نے وہ رقم اس رفاہی ادارے کو ایام قربانی گزر جانے کے بعد مثلا 14 ذی الحجہ کو دی ۔اب وہ رفاہی ادارہ اس رقم کا کیا کرے؟ صدقہ کرے ،عمرو کو واپس کرے یا آئندہ سال قربانی کرے،نیز عمرو کی قربانی کا کیا ہوگا؟ کیا اس پر قربانی کی قضاء واجب ہوگی؟

جواب

مذکورہ صورت میں رقم عمرو کو واپس کرنا ضروری ہے اوراگر عمرو پر قربانی واجب تھی اور اس نے اپنی واجب قربانی ادا نہیں کی تو اس صورت میں ایام قربانی میں قربانی کے جانور کی جو قیمت تھی اتنی رقم مصرف زکوۃ میں صدقہ کرنا ہوگی ،البتہ قربانی کی قضاء نہیں ہوگی۔
: الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(9/531،533)رشیدیۃ
(ولو) (تركت التضحية ومضت أيامها) (تصدق بها حية ناذر) فاعل تصدق (لمعينة) ولو فقيرا، ولو ذبحهاتصدق بلحمها، ولو نقصها تصدق بقيمة النقصان أيضا ولا يأكل الناذر منها؛ فإن أكل تصدق بقيمة ما أكل (وفقير) عطف عليه (شراها لها) لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها۔
: بدائع الصنائع ،علاء الدین الکاسانی(م:587ھ)(4/203)علمیۃ
وإن كان لم يوجب على نفسه ولا اشترى وهو موسر حتى مضت أيام النحر تصدق بقيمة شاة تجوز في الأضحية؛ لأنه إذا لم يوجب ولم يشتر لم يتعين شيء للأضحية وإنما الواجب عليه إراقة دم شاة فإذا مضى الوقت قبل أن يذبح – ولا سبيل إلى التقرب بالإراقة بعد خروج الوقت لما قلنا – انتقل الواجب من الإراقة والعين أيضا لعدم التعيين إلى القيمة وهو قيمة شاة يجوز ذبحها في الأضحية۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

1

/

42

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس