بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وطن ِاصلی کب باطل ہوتاہےمسافراپنےگاؤں سےگزرتےہوئے اتمام کریگایاقصر؟

سوال

زید جوکہ اصلاً گلگت کارہائشی ہے۔ اب اس نے لاہورمیں جگہ خریدی ہےاورمستقلاً یہیں رہ رہاہے، البتہ اس کی گلگت والی جائیداد بدستورموجودہےاوراس کےوالدین گلگت ہی میں ہیں ۔
نمبر ۱۔ اب زید لاہور سےگلگت پندرہ دن سےکم کی نیت سےجائےگاتونماز قصرکریگا یانہیں ؟
نمبر ۲۔ اگرزیدنےاپنی گلگت والی جائیدادزمین وغیرہ سب کچھ بیچ دی اورمستقلاً لاہورمیں سکونت اختیار کرلی ہے۔ اب اگرپندرہ دن سےکم د نوں کےلیےوالدین سےملنےگلگت جائےگاتونمازقصر کریگا یانہیں؟
نمبر ۳۔ زیداپنےگاؤں (ڈوئیاں ) سےراولپنڈی سفر کرنا چاہتاہےجبکہ راولپنڈی کےلئےگاڑی استورشہرسے ملتی ہے، جب زیدڈوئیاں کی حدودسےنکلےگا توشرعاًمسافرشمارہوگایانہیں؟جب استورشہر سے اس نے راولپنڈی کےلئےسفرکیا تویہی گاڑی دوبارہ ڈوئیاں سےگزرتی ہےاورعموماً ظہرکی نماز ڈوئیاں میں مسافراداکرتےہیں۔ زیداب ڈوئیاں میں قصرنمازپڑھےگایاپھرپوری نماز؟

جواب

نمبر۱،۲۔۔۔سب سے پہلے ایک بنیادی نکتہ ذہن نشین فرمالیں کہ کسی جگہ کے وطنِ اصلی کے طورپرباقی رہنے یا نہ رہنے کا اصل مدار مبتلٰی بہٖ کی نیت پرہے ،جائیداد،زمین وغیرہ کا ہونا یانہ ہونااس نیت کی علامات ہیں ، اصل مدارِ مسئلہ نہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں پوری نماز پڑھنے یا قصر کرنےکےبارے ميں تفصیل یہ ہےکہ
الف۔اگرزید لاہور میں اپنے اہل خانہ کےساتھ مستقل وطن کی حیثیت سے سکونت اختیارکرچکا ہے اورآئندہ کبھی بھی گلگت میں رہائش اختیارکرنے کی نیت نہیں ہے توگلگت اس کاوطن اصلی باقی نہیں رہا(اگرچہ وہاں زمین موجود ہواوررشتہ داروں سے ملاقات کے لئے جانے کی نیت ہو) اس لئے گلگت میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کی صورت میں وہ قصرکرے گاالبتہ مقیم امام کی اقتداءمیں نماز ادا کرنے کی صورت میں مکمل نماز اداكرے گا۔
ب۔اگرزیدنےلاہورمیں رہائش اختیارکرنے کے ساتھ ساتھ گلگت میں رہائش کاارادہ کوبالکل ختم نہیں کیا، بلکہ وہاں سکونت اختیارکرنے کی نیت باقی ہےتوگلگت تاحال اس کا وطن اصلی ہے اس لئے وہاں جب بھی جائیگا پوری نماز اداکرے گاچاہے کم مدت ٹھہرنے کاارادہ ہویازیادہ ۔
نمبر۳۔ڈوئیاں کے اندرنمازاداکرنے کی صورت میں زید پوری نماز اداکرے گا۔ (مثلہ فی امدادالفتاویٰ۱/ ۴۴۰،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
بدائع الصنائع علاء الدين الكاساني (م: 587هـ) (1 / 103) دار الكتب العلمية
 وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارًا  وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها…۔
الدر المختار ،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ) (2 / 131) سعيد
الوطن الأصلي  هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه يبطل بمثله  إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما لا غير …۔
رد المحتار، ابن عابدين الشامي(م: 1252هـ) (2/ 131) سعيد
(قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية… (قوله إذا لم يبق له بالأول أهل) أي وإن بقي له فيه عقار.فقط
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس