بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

وراثت کی زمین کوتقسیم سےپہلےمسجدکےلئےوقف کرنےکا حکم

سوال

والدین کے دس بچے ہیں ، دو بیٹے ، آٹھ بیٹیاں سب بچے شادی شدہ ہیں ،والدین فوت ہوگئے ہیں اور سب بچے بھی فوت ہو گئے ہیں۔ اب ایک بیٹے کی بیوی آکر کہتی ہے کہ میں اس جائیداد پر مدرسہ اور مسجد بنا کر اس کو ایصال ثواب کےلئے وقف کروں گی اور جائیداد بھی تقسیم نہیں کی، تو کیا اس جگہ پر مدرسہ اور مسجد بنانا جائزہے ؟

جواب

وراثت کی زمین کو مسجد لیے وقف کرنا

جب تک اس جائیداد میں دیگر ورثا ءکا حق ہے اور وہ تقسیم نہیں ہوئی ،تو اس وقت تک مذکورہ خاتون کے لئےدیگر ورثاءکی رضامندی کے بغیر اس کو مدرسہ یا مسجد کے لئےوقف کرنا جائز نہیں ہے البتہ تقسیم کے بعد چونکہ ہر مالک اپنے حصے میں سے جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، اس لئےمذکورہ خاتون (وارث) اگر تقسیم کے بعد اپنے حصے میں مسجد و مدرسہ بنانا چاہے تو بنا سکتی ہے۔
الدر المختار (6/ 200)
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه
تبيين الحقائق (3/ 324)
 وأما شرطه فهو الشرط في سائر التبرعات من كونه حرا عاقلا بالغا وأن يكون منجزا غير معلق
الدر المختار (4/ 348)
ولا يتم الوقف حتى يقبض… (ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم
 رد المحتار (4/ 348)
(قوله: ويفرز) أي بالقسمة وهذا الشرط وإن كان مفرعا على اشتراط القبض؛ لأن القسمة من تمامه إلا أنه نص عليه إيضاحا
تبيين الحقائق (5/ 21)
أخذ مال الغير سبب لوجوب الضمان لقوله – عليه الصلاة والسلام – على اليد ما أخذت حتى ترد
الدر المختار (4/ 61)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس