نمبر۱۔ ایک صاحب جو کہ قرات خلف الامام کے قائل ہیں انہوں نے جماعت کے دوران پہلی رکعت میں اس وقت نیت باندھی جب امام صاحب رکوع میں جا چکے تھے انہوں نے نیت کے فورا ًبعد سورۃ الفاتحہ پڑھنا شروع کر دی جب تک وہ سورۃ الفاتحہ مکمل کرتے ہیں ،امام صاحب رکوع سے اٹھ جاتے ہیں ،امام صاحب کے رکوع سے اٹھنے کے بعد جلدی سے انہوں نے رکوع کیا اور پھر فورا ًامام کے ساتھ مل گئے،کیا اس صورت میں ان کی نماز درست ہوئی؟
نمبر۲۔اس کے علاوہ اگر کوئی مقتدی جماعت کے دوران اس حال میں شامل ہو کہ امام صاحب پہلے سجدے میں ہو ں اگر مقتدی ہاتھ باندھ کر مختصر قیام کرے پھر رکوع پھر پہلا سجدہ کر کے جلدی سے دوسرے سجدے میں جا کر امام سے مل جائے تو کیا یہ نماز صحیح ہوگی؟
قومہ یا سجدہ میں ملنے والے مقتدی کی رکعت کا حکم
نمبر۱۔جب امام رکوع سے قومہ کی طرف آجائےاگر اس وقت جماعت میں شامل ہونے والا مقتدی رکوع کرے تو مقتدی کی وہ رکعت شمار نہیں ہوگی،صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس رکعت کو دوبارہ نہیں لوٹایا ، تو اس کی نماز درست نہیں ہوئی ۔
نمبر۲۔ صورت مسئولہ میں جب جماعت میں شامل ہونے والا تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد رکوع اورسجدہ کرے اور پھر امام کے ساتھ دوسرے سجدے میں شامل ہوتو اس کی نماز فاسد ہوگئی اور اسے از سرِنو نماز اداءکرنا ہوگی۔
نماز میں شامل ہو نے کا درست طریقہ یہ تھا کہ مقتدی نے جب امام کو سجدہ کی حالت میں پایا تو تکبیر تحریمہ کہنے کے بعدالگ سے رکوع و سجدہ کرنے کی بجائے امام کے ساتھ سجدہ میں شریک ہو جائے اور پھر اس رکعت کو امام کے سلام پھیرنے کے بعدلوٹا لے۔
سنن أبي داود (1/ 236) العصرية
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جئتم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا، ولا تعدوها شيئا، ومن أدرك الركعة، فقد أدرك الصلاة
الدر المختار (2/ 60) دار الفكر
(ولو اقتدى بإمام راكع فوقف حتى رفع الإمام رأسه لم يدرك) المؤتم (الركعة) لأن المشاركة في جزء من الركن شرط ولم توجد فيكون مسبوقا فيأتي بها بعد فراغ الإمام، بخلاف ما لو أدركه في القيام ولم يركع معه فإنه يصير مدركا لها فيكون لاحقا فيأتي بها قبل الفراغ، ومتى لم يدرك الركوع معه تجب المتابعة في السجدتين وإن لم تحسبا له ولا تفسد بتركهما، فلو لم يدرك الركعة ولم يتابعه لكنه إذا سلم الإمام فقام وأتى بركعة فصلاته تامة وقد ترك واجبا نهر عن التجنيس
التتاتارخانیہ(۲/۱۹۶)فاروقیہ
وفي الذخيرة :وإن أدركه وهو فى الركوع فدخل في صلاته، ولم يركع معه، وسجد سجدتين، لا يصير مدركا للركعة، ولا تفسد صلاته، وكذا لو أدرك الإمام في السجدة الأولى، فركع وسجد معه سجدتين، لا يصير مدركا للركعة ولا تفسد صلاته، وإذا أدرك الإمام بعد ما رفع رأسه من السجدة الأولى فدخل في صلاته فركع، وسجد السجدة الأولى بنفسه والثانية مع الإمام، تفسد صلاته
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 176) العصرية
“ومن أدرك إمامه راكعا فكبر ووقف حتى رفع الإمام رأسه” من الركوع أو لم يقف بل انحط بمجرد إحرامه فرفع الإمام رأسه قبل ركوع المؤتم “لم يدرك الركعة” كما ورد عن ابن عمر رضي الله عنهما فكان الشرط لإدراك الركعة إما مشاركة الإمام في جزء من القيام أو جزء مما له حكم القيام وهو الركوع ولا يشترط تكبيرتان للإحرام والركوع ولو كبر ينوي الركوع لا الافتتاح جازت ولغت نيته وإذا وجد الإمام ساجدا تجب مشاركته فيه فيخر ساجدا وإن لم يحسب له من صلاته فلو ركع وحده ثم شاركته في السجدتين لا تفسد صلاته ولا يحسب له ذلك وإن لم يشاركه إلا في الثانية بطلت صلاته والفرق أنه في الأولى لم يزد إلا ركوعا وزيادته لا تضر وفي الثانية زاد ركعة وهي مفسدة