بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد سجدہ میں کتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟/تراویح کے علاوہ دیگر نمازوں میں آیت سجدہ کا حکم

سوال

اگر نماز کے دوران آیت سجدہ آجائے تو اسی وقت سجدہ تلاوت واجب ہے یا بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے ؟  بعض کا کہنا ہے کہ دوران ِنماز سجدہ صرف تراویح میں بھی کیا جا سکتا ہے  دیگر نمازوں میں نہیں ؟

جواب

نماز میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد فوراً سجدہ کرنا واجب ہے۔ اور تین آیات کی مقدار سے زیادہ تاخیر کرنے کی گنجائش نہیں ۔ اگر کوئی شخص فوراً سجدہ کرنا بھول جائے اور چار آیات پڑھ کر یاد آجائے تو اس وقت سجدهِ تلاوت کرلے اور اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہے اور اگر چار آیات یا اس سے کم مقدار پڑھنے کے بعد سجدہ کرلے تو سجدہ سہو لازم نہیں ۔ اگر کسی نے نماز میں  آیات سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ کیا ہی نہیں تو گناہ گار ہوا، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، البتہ نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو گئی اس کو لوٹانا لازم نہیں ۔ (فتاوی  محمودیہ ہے 7/468،ط؛ ادارہ الفاروق)
واضح رہے کہ تراویح کے علاوہ دیگر نمازوں میں بھی آیت سجدہ تلاوت کرنے کےبعد سجدہ کرنا لازم ہے۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(2/ 110)ایچ۔ایم۔سعید
فإن كانت صلوية فعلى الفور ح ثم تفسير الفور عدم طول المدة بين التلاوة والسجدة بقراءة أكثر من آيتين أو ثلاث (قوله ويأثم بتأخيرها إلخ) لأنها وجبت بما هو من أفعال الصلاة. وهو القراءة وصارت من أجزائها فوجب أداؤها مضيقا كما في البدائع ولذا كان المختار وجوب سجود للسهو لو تذكرها بعد محلها۔
الدرالمختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/110)ایچ۔ایم۔سعید
(ولو تلاها في الصلاة سجدها فيها لا خارجها) لما مر. وفي البدائع: وإذا لم يسجد أثم فتلزمه التوبة
   الدرالمختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/111،110)ایچ۔ایم۔سعید
ويأثم بتأخيرها ويقضيها ما دام في حرمة الصلاة ولو بعد السلام….(ولو تلاها في الصلاة سجدها فيها لا خارجها) لما مر. وفي البدائع: وإذا لم يسجد أثم فتلزمه التوبة… (و) تؤدى (بركوع صلاة) إذا كان الركوع (على الفور من قراءة آية) أو آيتين وكذا الثلاث على الظاهر كما في البحر (إن نواه) أي كون الركوع (لسجود) التلاوة على الراجح (و) تؤدى (بسجودها كذلك) أي على الفور (وإن لم ينو) بالإجماع۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،احمد بن محمد(م:1231ھ)(ص: 487)
“بأن يقرأ أكثر من آيتين” اعلم أن الفور لا ينقطع بآية بعد آيتها أو آيتين اتفاقا وينقطع بأربع اتفاقا واختلف في الثلاث فقيل ينقطع واختاره خواهر زاده وقيل لا واختاره الحلواني وهو أصح من جهة الرواية كما في الحلب۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس