بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز ميں “فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ” کے بعد آمین کہنا

سوال

ایک شخص نے سورۃ بقرہ کی آخری آیت میں “فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ “کے بعد آمین کہا اس کا کیا حکم ہوگا (اور یہ امام کے پیچھے کہاتھا) نماز ہوگئی یا نہیں؟اس طرح دیگر یومیہ دعاؤں کے بعد نماز میں آمین کہنے کا کیاحکم ہوگا؟

جواب

ذکر کردہ صورت میں  “فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ “کے بعد آمین کہنے سے نماز تو ہوگئی، البتہ ادعیہ پر مشتمل آیات کے بعد نماز میں آمین کہنا درست نہیں ہے ۔
:کما فی خلاصۃ الفتاوی،طاہر بن عبد الرشید(م:542ھ)(1/120) رشیدیۃ
لو دعا  رجل أو قرأ الفاتحۃ فقال المصلی آمین لا تفسد۔
:وفیه أيضًا(1/124)رشیدیۃ
ولو قال آمین بغیر مد ولاتشدید لدعاء غیرہ تفسد صلاتہ ۔
:وفی الخانیۃ علی ھامش الہندیۃ،فخر الدین حسن بن منصور(م:295)(1/ 138)رشیدیۃ
ولو قرأ الإمام آية الترغيب أو الترهيب فقال المقتدي: صدق الله وبلغت رسله فقد أساء ولا تفسد صلاته۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس