بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز جنازه ميں شركت مسلمان بھائی کا حق اور تعزیت کرنا مسنون ہے

سوال

جو لوگ نماز جنازہ اور دفن میں شریک ہوئے ان کے ذمے سے کیا میت کا حق ادا ہو گیاہے یا نہیں۔ دفن کے بعد ورثاءکے پاس رسماً جانا کیسا ہےاور اگر صبر کی تلقین کے لیے اپنے تعلق کی وجہ سے ورثاء میت کے ہاں جائیں تو کیا اس کی گنجائش ہے؟

جواب

حدیث مبارکہ میں مسلمان بھائی کی نماز جنازہ میں شرکت کو اسکا حق قرار دیا گیا ہے،اور اس کی تدفین میں شریک ہونا،اور تعزیت کرنا مزید اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔البتہ تعزیت کرنے میں نیت محض رسماً حاضری کی نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مرحوم کے لواحقین کو تسلی دینا ،صبر کی تلقین و ترغیب دینا پیشِ نظر ہو۔لیکن یہ بھی مدِنظر رہے کہ ایک مرتبہ تعزیت کرکے دوبارہ تعزیت کرنا مناسب نہیں ،خصوصاً جبکہ اہلِ میت کو اس سے مشقت وتکلیف ہوتی ہو۔
تکملہ فتح الملہم(4/144) دارالعلوم کراتشی
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ  عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم”خمس تجب للمسلم علی اخیہ: رد السلام،تشمیت العاطس،واجابۃ الدعوۃ،وعیادۃ المریض،واتباع الجنائز۔۔
الجوہرالنیرۃ،کتاب الصلوٰۃ(253)رشیدیۃ
ویستحب ان یعلم جیرانہ واصدقاؤہ بموتہ،حتیٰ یؤدوا حقہ باالصلوٰۃ علیہ والدعاءلہ، ویکرہ النداء فی الشوارع والاسواق، وقال فی المحیط:لاباس نہ علی الاصح،لان فیہ تکثیرالجماعۃ من المصلین علیہ والمستغفرین لہ،وتحریض الناس علی  الطہارۃ والاعتبار۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (2/270)مکتبہ عملیة “تستحب التعزية الخ” ويستحب أن يعم بها جميع أقارب الميت إلا أن تكون امرأة شابة وهو المشار إليه بقوله اللاتي لا يفتن وهو بالبناء للفاعل ولا حجر في لفظ التعزية ومن أحسن ما ورد في ذلك ما روي من تعزيته صلى الله عليه وسلم لإحدى بناته وقد مات لها ولد فقال: “إن لله ما أخذو له ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى أو يقول عظم الله أجرك وأحسن عزاءك وغفر لميتك أو نحو ذلك”۔
الدرالمختار(2/141)مکتبہ ایم۔ایچ۔سعید
وتکرہ بعدہاالالغائب، وتکرہ التعزیہ ثانیاً،وعندالقبر،وعندباب الدار۔
ردالمحتار(2/141) مکتبہ ایم۔ایچ۔سعید
(قولہ :وتکرہ التعزیۃ ثانیاً)فی التتارخانیہ:لاینبغی لمن عزی مرۃ ان یعزی مرۃ اخرٰی(رواہ الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس