بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نمازجنازہ میں مسبوق کا چھوٹی ہوئی تکبیرات اداکرنے کاطریقہ

سوال

نماز جنازہ شروع ہوچکی ہو اور کوئی شخص دیر سے پہنچے ،تو کیا آتے ہی فوراً نماز جنازہ میں شریک ہو جائے ، یا انتظار کرے کہ جب امام اگلی تکبیر کہے اس وقت شریک ہو ؟ اور ظاہر سی بات ہے کہ نماز جنا زہ میں جو شخص دیر سے شریک ہو تا ہے اس کو عموما یہ معلوم نہیں ہوتاکہ اس وقت امام اور مقتدی کونسی تکبیر میں ہیں ایسی صورت وہ کیا کرے ؟اور جو تکبیرات چھوٹ گئی ہوں ان کو ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟۔

جواب

مذکورہ شخص آتے ہی فوراً نماز میں شریک نہ ہو بلکہ امام کی تکبیر کا انتظا ر کرے، جب امام تکبیر کہے تو یہ بھی امام کے ساتھ تکبیر کہہ کر نما ز میں شامل ہوجائے ،پھر جب امام سلام پھیر دے ،تو جتنی چھوٹی ہوئی تکبیریں ہیں ان کی قضا کرے،اور اگر اسے معلوم نہ ہو کہ امام اور مقتدی کونسی تکبیر میں ہیں تو خاموش کھڑا رہے کچھ بھی نہ پڑھے صرف امام کے ساتھ تکبیرات کہتا رہے۔
المحيط البرهاني،محمود بن أحمد(م: 616ھ)(2/ 181)دارالكتب العلمية
وإذا انتهى إلى الإمام في صلاة الجنازة وقد سبقه بتكبيرة لا يكبر، ولكنه ينتظر تكبيرة الإمام حتى يكبر، فيكبر معه فإذا سلم الإمام قضى هذا الرجل ما فاته قبل أن ترفع الجنازة۔
فتاوی قاضی خان، فخرالدین ابی الحاسن بن منصور (م:592ھ)(1/170)رشیدیة
واذاکبر الامام علی الجنازة تکبیرة اوتکبیرتین فجاء رجل لا یکبر هذا الرجل حتی یکبر الامام فکبرمعه للافتتاح ویکون مسبوقا قائما کبر الامام قبله۔
 بدائع الصنائع للعلامة علاءالدین الکاسانی(م:587ھ)علمیة۔
ولو کبر الامام تکبیرة اوتکبیرتین اوثلاث تکبیرات ثم جاء رجل لا یکبر ولکنه ینتظر حتی یکبر الامام فیکبر معه ثم اذا سلم الامام قضی ما علیه قبل ان ترفع الجنازة۔
(17)    وفي التاتارخانیة،شیخ فرید الدین عالم بن العلاء(م:786ہ)(3/51)فاروقیة
فان لم یکبرہومع الامام حتی کبر الامام اربعا کبر ہو قبل ان یسلم الامام ثم یکبر ثلاثا قبل ان ترفع الجنازة۔
المبسوط للشیخ محمد بن أحمد شمس الأئمة السرخسي(م: 483ہ)( 2/66)دارالمعرفة
ان من کان خلف الامام فہو مدرک للتکبیرة الافتتاح فیاتی بہا حین حضرتہ النیة، بخلاف المسبوق فانہ غیر مد رک للتکبیرة الاولی وہی قائمة مقام رکعة فلا یشتغل بقضائہا قبل سلام الامام کسائر التکبیرات۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس