بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نجاست والا ٹشو پیپر جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا

سوال

ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں کہ اگر کسی شخص کی جیب میں استنجاء والا یعنی استعمال شدہ ٹشو پیپر رکھا ہو اور اس نے نماز پڑھ لی تو کیا اس کی نماز ہوجائےگی یا نہیں ؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

ناپاک چیز کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں اس شخص کا نجاست والا ٹشو پیپر جیب میں رکھ کر نماز ادا کرنا درست عمل نہیں اس نجاست کو نکال کر دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی۔
رد المحتار (2/92)رشیدیۃ
ونجاسة باطنه في معدنها فلا يظهر حكمها كنجاسة باطن المصلي، كما لو صلى حاملا بيضة مذرة صار محها دما جاز لأنه في معدنه، والشيء ما دام في معدنه لا يعطى له حكم النجاسة، بخلاف ما لو حمل قارورة مضمومة فيها بول فلا تجوز صلاته لأنه في غير معدنه كما في البحر عن المحيط۔
رد المحتار(1/317)سعید
ففي المحيط: يكره أن يصلي ومعه قدر درهم أو دونه من النجاسة عالما به لاختلاف الناس فيه. زاد في مختارات النوازل قادرا على إزالته وحديث «تعاد الصلاة من قدر الدرهم من الدم»۔
الفتاوى الهندية (1/69)بیروت
في النصاب رجل صلى وفي كمه قارورة فيها بول لا تجوز الصلاة سواء كانت ممتلئة أو لم تكن؛ لأن هذا ليس في مظانه ومعدنه بخلاف البيضة المذرة؛ لأنه في معدنه ومظانه وعليه الفتوى. كذا في المضمرات۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس