بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نابالغ کی امامتِ تراویح اور کمیٹی والوں کا نابالغ کو امام بنانے کا حکم

سوال

آج کل جو حفاظ کرام مسجدوں میں تراویح سناتے ہیں (یعنی قرآن پاک ) ان کی عمر کم از کم کتنی ہونی چاہیے ۔ کیا پندرہ (۱۵) سال سے کم عمر کا حافظ قرآنِ پاک سنا سکتا ہے یا نہیں ؟  اگر مسجد کی کمیٹی ایسے حافظ کو سنانے کے لیے مقرر کر دے تو پھر ایسی صورت میں تراویح کا کیا حکم ہے؟

جواب

جس طرح فرض نمازوں میں بالغ حضرات کے لئے نابالغ کی اقتداء درست نہیں اسی طرح وتر اور تراویح کی نماز بھی بالغ مردوں کی نابالغ حفاظ کےپیچھے نماز ا دانہیں ہوگی۔ اس لئے تراویح کی نماز کے لئے بھی بالغ مرد کو امام مقرر کرنا ضروری ہے اور اگر کسی مسجد میں کمیٹی کے حضرات نابالغ امام مقرر کریں تو انہیں حکمت و مصلحت کے ساتھ فساد و انتشار سے بچتے ہوئے صحیح مسئلہ سمجھا دینا چاہئے۔ پھر بھی اگر وہ نہ مانیں تو اپنی نماز دوسری مسجد میں کسی بالغ ، صالح اور صحیح العقیدہ امام کے پیچھے ادا کرلی جائے ۔نیز واضح رہے کہ اگر لڑکا پندرہ سال سے کم عمر ہو اور اسے احتلام یا انزال ہو جائے تو وہ بالغ  ہے اور اس کی اقتداء میں نماز درست ہے اور اگر یہ علامت ظاہر نہ ہوئی ہو تو  پندرہ سال مکمل ہونے کے بعد بالغ ہو گا۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م:1088ه) (1/ 576)ایچ۔ایم۔سعید
(ولا يصح اقتداء رجل بامرأة) وخنثى (وصبي مطلقا) ولو في جنازة ونفل على الأصح۔
وفی رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (1/ 576)ایچ۔ایم۔سعید
والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م:1088ه)  (6/ 153)ایچ۔ایم۔سعید
(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال۔
الجوهرة النيرة،ابو بکر بن علی(م:800ھ)(1/63)رشیدیۃ
وأما الصبي فلا تجوز إمامته للبالغين؛ لأنه متنفل ۔۔۔ والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها۔
 غنیۃ المستملی،ابراہیم الحلبی(م:956ھ)(ص:481)المجتبائی
ولا یصح اقتداء البالغ بغیر البالغ في الفرض وغیرہ، وهوالصحیح۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس