نمبر ۱۔ بندہ نے بنیّت قربانی(اضحیۃ)ایک جانورخریدا بعدازاں دل میں داعیہ پیداہوا کہ اس کوبیچ کردوسراجانور جو اس سےعمدہ اور بڑھیاہوخریدلیاجائےایساکرناشریعت اسلامیہ میں کیاحکم رکھتاہے؟
نمبر ۲۔ نابالغ بچی،بچہ کی طرف سےقربانی والدکرسکتاہےیانہیں؟
تنقیح: درج ذیل امورکی وضاحت کےبعدانشاءاللہ آپ کےسوال کاجواب دیاجائےگا۔
نمبر ۱۔ ۔قربانی کاجانورخریدتےو قت آپ پرقربانی لازم تھی یانہیں؟
نمبر ۲ ۔ مذکورہ جانورآپ نےنفلی قربانی کےلئے خریدا یا واجب قربانی کےلئے؟
جوابِ تنقیح: نمبر۱۔ بحمداللہ بندہ صاحب ِنصاب ہےاپنی طرف سےقربانی کرتا ہے۔
نمبر ۲۔ مذکورہ جانوراپنی نا بالغ بچی کی طرف سےقربانی کی نیّت کرکےخریداہے۔
نمبر ۱۔ صورتِ مسئولہ میں آپ کےلئےپہلےجانورکودوسرےجانورسےبدلناصحیح ہے۔
نمبر ۲۔ والدپرنابالغ بچوں کی طرف سےقربانی کرناواجب نہیں ہےاگرچہ مالدارہوں، البتہ اگر والداپنے مال سے ان کی طرف سےقربانی کرےتوصحیح ہے ۔