بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میت کی فوت شده نمازوں اور روزے کا فدیہ ادا کرنا

سوال

فوت شده نمازوں اور روزه كے فديے كا طريقہ کیا ہے؟

جواب

ميت كے تركہ 1/3 ميں سے فوت شده نمازوں اور روزے كا فدیہ  بصورت وصيت پہلے ادا كيا جائے گا۔ پهر شرعی حصوں کے مطابق ترکہ تقسیم ہوگا۔
ایک نماز کا فدیہ  پونے دو کلو گندم ،آٹا یا اس کی قیمت ہے ایک یوم کی چھ(6)نمازوں کا حساب کیا جائے گا پانچ فرض ، ایک وتر۔اسی طرح روزوں کا بھی حساب لگا لیا جائے گا۔ایک روزے کا فدیہ پونے دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قیمت کے حساب سے ادا کیا جائے گا ۔میت نے اگر وصیت نہ کی ہو تو پھر ورثاء کو چاہیے کہ مرنے والے کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے اس کی طرف سے مذکورہ بالا حساب کے مطابق  فدیہ ادا کردیں ۔یہ ورثاء کے ذمے لازم نہیں ہے۔یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہو تو ترکہ کی تقسیم سے پہلے تبرعاً فدیہ ادا کرنا بھی جائز نہ ہوگا۔اگر قرضہ میت کے ذمے ہو تو وصیت اور فدیہ کی ادائیگی سے پہلے قرضہ ادا کرنا ضروری ہے۔
:الفتاوى الهندية، لجنة علماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 125)رشیدیۃ
 إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله….وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة منوين
: رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(2/ 359)ایچ۔ایم۔سعید
 إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث
:تبيين الحقائق،فخر الدين الزيلعي الحنفي (المتوفى: 743 ه)(7/377)دارالکتب العلمیۃ
ويشترط أن يكون المجيز من أهل التبرع بأن يكون بالغا عاقلا وإن أجاز البعض دون البعض تجوز على المجيز بقدر حصته دون غيره لولايته على نفسه لا على غيره
:  البحرالرائق، ابن نجيم المصري (م: 970ه)(2/ 160)رشیدیۃ
إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع وإنما يعطى من ثلث ماله
:الدر المختار، علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(2/643،646)رشیدیۃ
(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطى (من ثلث ماله)

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس