نمبر۱۔ میرے والد ِمرحوم نے اپنی زندگی میں مکان تعمیر کروایا تھا اور دورانِ تعمیر میرے بڑے بھائی نے بھی تعاون کیا تھا جو اس وقت کمائی کرتا تھا اور چھوٹے بھائی بے روز گار ۔اس مکان میں ایک بیٹھک، ایک کچن ،ایک باتھ روم، دو کمرے بالکل ایک سائز کے ،ایک چھوٹا کمرہ اور چھت پر بھی ایک چھوٹا کمرہ شامل ہیں ۔ جو دو کمرے ایک سائز کے ہیں ان میں سے ایک کمرہ میرے والد صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے کی اہلیہ کیلئے حق مہر مقرر کر دیا اور ساتھ میں ایک کنال زمین بھی یہ والد صاحب نے خود مقررکیا ہے،لڑکی والوں کی خواہش پر نہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہےکہ گھر کی تقسیم کرنی ہے اور جھگڑا اس بات پر ہےکہ جو مکان حق مہر مقرر ہے وہ چھوٹا بھائی اپنے حصے سے دے۔ اور چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ یہ مکان نکال کے باقی گھر کی تقسیم ہو ،تقسیم میں چھوٹا مکان شامل نہ ہو اور نہ ہی ایک کنال زمین ۔ہم کل 5 بہن بھائی ہیں 3 بہنیں اور 2 بھائی ، والدہ بھی حیات ہیں۔آپ سے گزارش ہےکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں گھر کی تقسیم کا طریق کار سمجھا دیں تاکہ شریعت ِمطہرہ کے مطابق فیصلہ ہو جائے۔
نمبر۲۔میری والدہ صاحبہ کو اپنے والد صاحب کی طرف سے وراثت میں تقریباً 100 کنال زمین ملی ۔ اور والدہ صاحبہ نے اس کو فروخت کر دیا۔ اب مسئلہ یہ ہےکہ اس فروخت شدہ زمین کی رقم ہم 5 بہن بھائیوں میں والدہ کیسے تقسیم کرے۔ آیا “للذكر مثل حظ الانثین” کے تحت یا برابری میں ؛کیونکہ والدہ زندہ سلامت ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں۔
تنقیح : آپ کے والد محترم نے جو زمین(ایک کمرہ اور ایک کنال زمین)بطور مہر مقرر کی تھی آیا آپ کے والد نے اس زمین کا قبضہ بھی دے دیا تھا یا نہیں ؟
جواب تنقیح:کمرہ بھی حوالے کر دیا ہے اور جو ایک کنال زمین ہے وہ بھی کاغذات میں خسرے کے ساتھ مقرر کرکے حوالے کر دی ہے ۔
زندگی میں جائیداد کی تقسیم
نمبر۱۔واضح رہے کہ آپ کے بڑے بھائی نے دورانِ تعمیر جو والد مرحوم کے ساتھ جانی ومالی تعاون کیا تھا اگر و ہ تعاون باقاعدہ کسی قرض یا شراکت داری وغیرہ کےمعاہدے کے تحت نہیں تھابلکہ تبرعاً تھا تو وہ سارا مکان اور زمین والد کی ملکیت ہے،والد صاحب جس طرح چاہیں تصرف کر سکتے ہیں ۔لہٰذا آپ کے والد صاحب نے جو زمین اور کمرہ اپنی بہو کےلیے مہر میں مقرر کر کے اس کے قبضے میں دے دیئے،وہ اب بہو کی ملکیت ہیں،ان اس کو بقیہ گھر کی تقسیم میں شمار نہیں کیا جائے گا ۔ نیز مذکورہ سوال سے معلوم ہواکہ میت کے انتقال کے وقت صرف مذکورہ افراد (ایک بیوی ،2بیٹےاور 3 بیٹیاں )حیات تھے۔ اگر واقعتاً صورت حال یہی ہے تو سب سے پہلےمیت کے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (تجہیزوتکفین،قرض اور وصیت اگر کی ہو،تو ثلث مال میں سے) ادائیگی کے بعد بقیہ کل مال کے آٹھ حصے کیے جائیں گےان میں سے ایک حصہ بیوی کو،دو دو ح صے ہر بیٹے کواور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو دیاجائے گا ۔
نمبر۲۔زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا یہ ہبہ شمار ہوگا اور اولاد کے درمیان ہبہ کے متعلق احادیث میں برابری کی ترغیب آئی ہے۔لہٰذا بیٹوں کو بیٹیوں کے برابر حصہ دینا بہترہےاور بیٹوں کو بیٹیوں سے دوگنا حصہ دینا بھی جائز ہےاسی طرح اگراولاد میں سے کسی کو اس کی ضرورت اور حاجت یا دینی مشغلہ یا زیادہ خدمت اورفرمانبرداری کی وجہ سے حصہ زیادہ دے دیا جائےتو یہ بھی جائز ہے بشرطیکہ دوسروں کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو ۔نیز تقسیم کے وقت ہی ہر ایک کو اس کے اپنے حصے پرمکمل قبضہ اور تصرف کا اختیاردینا ضروری ہے بصورت دیگر ہبہ تام نہیں ہوگا اور وہ جائیداد اصل مالک کی ملکیت میں ہی رہے گی۔(ماخذہ : تبویب داراالافتاء جامعہ احسان القران والعلوم النبویہ 6/56 ،امداد الفتاوٰی 8/37،فتاوٰی محمودیہ16/504)