میرے والد نے اپنے پیسوں سے زمین خریدی، پھر اس پر مکان بنانا شروع کیا لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ مکمل کر پاتے، میں نے انہیں گھر مکمل کرنے کے لیے پیسے دیے اور وہ رقم گھر بنانے کی کل رقم کی ۵۰ فیصد تھی، اب جب گھر بن گیا ہے تو کیا میں ان سے یہ مطالبہ کر سکتا ہوں کہ وہ مجھے اس گھر میں میرے جتنے پیسے لگے ہیں اس فیصد کے حساب سے حصہ دار بنالیں تا کہ کل کو جب اس گھر کے حصے ہوں تو مجھے اپنے وراثتی حصے کے ساتھ ساتھ جو رقم میں نے اس گھر پر خرچ کی ہے وہ بھی مل جائے۔ واضح رہے کہ پیسے دیتے وقت کوئی بات والد صاحب سے طے نہیں ہوئی تھی۔ (الشمول تنقیح و جواب منفی )
صورت مسئولہ میں آپ نے مذکورہ رقم نہ بطور قرض دی ہے اور نہ ہی یہ طے کیا تھا کہ اس رقم کے بقدر میں گھر میں حصہ دار ہوں گا تو یہ رقم آپ کی جانب سے محض تبرع اور احسان ہے اس لیے آپ اپنے والد صاحب سے اس گھر میں کسی حصے کا مطالبہ نہیں کر سکتے، البتہ اگر والد صاحب اپنی خوش دلی سے کچھ حصہ جدا کر کے آپ کو مالک و قابض بنا کر دے دیں ( محض کاغذات میں نام کر نا کافی نہیں ) تو اس میں حصہ مکمل ہو جائے گا اور وہ حصہ والد کی ملکیت سے نکل کر آپ کی ملکیت میں آجائے گا۔