بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مغرب کی نماز میں قعدہ آخیرہ کے بعد امام کا چوتھی رکعت کےلیے کھڑا ہونا

سوال

نمبر1 ۔ امام نے مغرب کی نماز میں قعدہ اخیرہ کے بعد چوتھی رکعت میں کھڑا ہوگیا چوتھی رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھ کر سجدہ سہو کرکے سلام پھیرا توشرعی نقطہ نظرسے کیا حکم ہے۔
نمبر 2 ۔اور جن مقتدیوں نے چوتھی رکعت میں امام کی اتباع کی ہے اورآخر میں امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا ہے ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مذکورہ میں سجدہ سہو کرنے سے مغرب کی نماز ہو جائے گی اورایک رکعت لغو ہوجائے گی،البتہ ایسی صورت میں بہتر یہ تھا کہ پانچویں رکعت بھی ملا لی جاتی تاکہ آخری دو رکعت نفل ہو جاتیں۔
  البحر الرائق(2/ 183)رشيديه
(قوله وإن قعد في الرابعة ثم قام عاد وسلم)
وقال تحته: (قوله وإن سجد للخامسة تم فرضه وضم إليه سادسة) أي لم يفسد فرضه بسجوده كما فسد فيما إذا لم يقعد…… وإنما لم يفسد لأن الباقي أصابه لفظ السلام وهي واجبة وإنما يضم إليها أخرى لتصير الركعتان له نفلا للنهي عن الركعة الواحدة
الدر المختار و (2/667تا668)رشيديه
(وإن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائما صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا)وسجد للسهو
البناية:)2(743/رشيديه
 قال:وألغى الخامسة لأنه رجع إلى شيئ محلة قبله فيرتفض وسجد للسهولأنه أخرواجباً
احسن الفتاوی( 2/37)اشاعت اسلام

“اگر چوتھی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو تو بیٹھ کرسجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلے،اوراتر اگر چوتھی رکعت کا سجد ہ کرلیا ہو توپانچویں کا ملانا مستحب ہے آخری دو رکعات  نفل ہوجائیں گی سجدہ سہو اس صورت میں بھی واجب ہے”۔

2۔جن مقتدیوں نے مغرب کی چوتھی رکعت میں امام کی اتباع کی ہےوہ اگرمسبوق تھے (یعنی ان کی کچھ رکعتیں باقی تھی تو ان کی نماز فا سد ہوجائے گی،ان پر لازم ہے کہ نماز دوبارہ اداکریں۔اور امام کو بھی چاہئے کہ نماز کے بعد لوگوں کو بتادے۔البتہ جو حضرات مسبوق نہیں تھےان کی نماز ادا ہوگئ ۔نیز جو حضرات چوتھی رکعت میں امام کے ساتھ آکر شامل   ہوے ہیں ان کی نماز ادا نہیں ہوئ۔

الدرالمختار(2/422) رشيدية
ولو قام إمامه للخامسة  فتابعه إن بعد القعو د تفسد وإلالا،حتا يقيد باالخا مسة سجدة
رد المحتار(2/422) رشيدية
’’تفسد ‘‘ اي ٍصلاة المسبوق ؛لأنه اقتداء في موضع الإنفراد؛ولأن اقتدا المسبوق بغيره مفسد۔
البحر الرائق (1/ 662)رشيدية
ولو قام الإمام إلى الخامسة في صلاة الظهر فتابعه المسبوق إن قعد الإمام على رأس الرابعة تفسد صلاة المسبوق لأن الإمام إذا قعد على الرابعة تمت صلاته في حق المسبوق فلا يجوز للمسبوق متابعته
خلاصة الفتاوى )1-2(146/رشيدية)
ولايصح إقتداءالمفترض باالمتنفل وعلى القلب يجوز
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس