بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معذور شخص کےلئے کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

آج کل مساجد میں کرسیوں پر نماز پڑھنے کا بہت رواج ہو گیا ہے صحیح طرح چلنے پھرنے والے حضرات بھی کرسی پر نماز ادا کرتے ہیں اور مزید یہ کہ ان کی خواہش یہ ہو تی ہے کہ سٹول کے بجا ئے اچھی اور آرام دہ کرسی پر نماز پڑھیں ،کیا اس طرح سے نماز ادا کرنا ٹھیک ہے؟

جواب

جو شخص قیام پر قادر نہیں لیکن زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے تو اس کو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا چاہیے ایسے شخص کے لیے کرسی پر نماز اداکرنا درست نہیں کیو ں کہ شریعت نے ایسے معذورین کو زمین پر بیٹھنے کے سلسلے میں مکمل رعایت دی ہے کہ جس ہیئت میں ممکن ہو بیٹھ کر نماز اداکرے اس صورت میں بلا ضرورت کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا چند وجوہات کی وجہ سے مکروہ ہے۔
نمبر۱۔زمین پر بیٹھ کر ادا کرنا مسنون طریقہ ہے اسی پر صحابہ کرام رضي الله عنهم اوربعد کے لوگوں کا عمل رہا ہے ، کچھ عرصہ قبل تک کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا رواج نہیں تھا ، نہ ہی خیرالقرون سے اس طرح کی نظیر ملتی ہے۔
نمبر۲۔ کرسیوں کے بلا ضرورت استعمال سے صفوں میں بہت خلل ہو تا ہے ؛ حالانکہ صفوں کی درستگی کی حدیث میں بہت تاکید سے آئی ہے۔
نمبر۳۔ بلاضرورت کرسیوں کو مساجد میں لانے سے مذاہب باطلہ کی عبادت گاہوں سے مشابہت ہو تی ہے اور دینی امورمیں ہم کو غیر وں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔
نمبر۴۔ نماز اللہ تعالی ٰ کی عظیم ہستی کے سامنے بندے کی بندگی، عاجزی وانکساری کا نام ہے اور بلا ضرورت کرسی پر نماز پڑھنے کی صورت میں یہ مقصد فوت ہو جا تا ہے کیوں کہ کرسی پر بیٹھنے کی حالت عموما ً عاجزی وانکساری کی نہیں ہو تی جبکہ زمین پر ادا کرنے میں یہ انکساری بدرجہ اتم پا ئی جاتی ہے۔
نمبر۵۔ نماز میں زمین سے قرب ایک مطلوب شے ہےجو کرسیوں پر اداکرنے میں حاصل نہیں ہوتا۔
نمبر۶۔ آرام دہ کرسی پر بیٹھنے سے عموما نیند اور غفلت کا غلبہ ہوجا تا ہے اوریہ نیند بعض صورتوں میں وضو کے ٹوٹنے کا سبب بھی بن جاتی ہے ۔
البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھ كر نماز اداکرنا دشوار ہو جائے ،مثلا ً گھٹنے نہ مڑتے ہو یا کمر میں تکلیف کی وجہ سے کسی ماہر دیندار ڈاکٹر نے منع کیا ہو یا بیٹھنے کی صورت میں قیام نہ کر سکتا ہو اور کرسی پر بیٹھنے کی صورت میں کر سکتا ہو تو پھر کرسیوں پر ضرورت کی وجہ سے نماز اداکی جاسکتی ہے لیکن اس مجبوری میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ہمیشہ سٹول یا چھوٹی کرسی ہی استعمال کی جائے جو صرف ضرورت کو پور ا کرے اور صف بندی میں بھی سہولت رہے ، البتہ اگر چھوٹی کرسی پر بیٹھنا دشوار ہو تو ضرورت کے وقت بڑی کرسی استعمال کی جاسکتی ہے۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م:1088ھ)(2/95)سعيد
 (من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى (قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) أو كان لو صلى قائما سلس بوله أو تعذر عليه الصوم كما مر (صلى قاعدا) ولو مستندا إلى وسادة أو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970ھ)(2/121)دارالكتاب الإسلامي
(قوله تعذر عليه القيام أو خاف زيادة المرض صلى قاعدا يركع ويسجد) لقوله تعالى:{ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ} [آل عمران: 191] قال ابن مسعود وجابر وابن عمر: الآية نزلت في الصلاة أي قياما إن قدروا وقعودا إن عجزوا عنه وعلى جنوبهم إن عجزوا عن القعود ولحديث عمر بن حصين أخرجه الجماعة إلا مسلما «قال كانت بي بواسير فسألت النبي – صلى الله عليه وسلم – عن الصلاة فقال – صلى الله عليه وسلم – صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنبك» زاد النسائي «فإن لم تسطيع فمستلقيا لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» ثم المصنف – رحمه الله – أراد بالتعذر التعذر الحقيقي بحيث لو قام سقط بدليل أنه عطف عليه التعذر الحكمي وهو خوف زيادة المرض واختلفوا في التعذر فقيل ما يبيح الإفطار وقيل التيمم وقيل بحيث لو قام سقط وقيل ما يعجزه عن القيام بحوائجه والأصح أن يلحقه ضرر بالقيام كذا في النهاية والمجتبى وغيرهما وإذا كان التعذر أعم من الحقيقي والحكمي فلا حاجة إلى جعل التعذر بمعنى التعسر وإنهم لا يريدون به عدم الإمكان كما في الذخيرة۔
 تبيين الحقائق،فخر الدين الزيلعي الحنفي(م:743ھ)(1/ 200) المطبعة الكبرى الأميرية
 (تعذر عليہ القيام أو خاف زيادة المرض صلى قاعدا يركع ويسجد)، وكذا إذا خاف إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس أو كان يجد للقيام ألما شديدا يصلي قاعدا يركع ويسجد «لقولہ – عليہ الصلاة والسلام – لعمران بن حصين صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنبك» ولأن في القيام في ہذہ الحالة حرجا بينا وہو مدفوع بالنص۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس