بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مضارب کا رب المال کی اجا زت بغیر راس المال کسی کودے دینا

سوال

بندہ نے کچھ رقم دوسرے آدمی کو دی اس طور پر کہ وہ کا روبار کرے اور اس کو اس بات کی بالکل اجازت نہیں دی کہ وہ تیسرے کسی اور شخص کو دے لیکن اس نے کسی اور شخص کو رقم دی اور وہ رقم ہلاک ہو گئی ، اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس صورت میں پہلا شخص (جس کو براہ راست رقم دی گئی تھی )ضامن ہو گا یا دوسرا ؟

جواب

سوا ل سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے یہ رقم کاروبا ر کرنے کےلیے مضاربت کے طور پر دی کہ سرمایہ آپ نے لگا یا اور کا م دوسرا شخص کرے اور حاصل شدہ نفع میں آپ دونوں طے شدہ تنا سب کے مطابق شریک ہوں گے اگر معاملہ اسی طرح ہوا ہے تو پھر مضارب(کاروبار کرنے والے شخص)کے لیےوہ رقم آپ کی اجازت کے بغیر کسی اور کو دینا جائز نہیں تھا اور اس رقم کے ضائع ہونے کی صورت میں وہ ذمہ دار ہے۔
تبيين الحقائق،العلامة فخر الدين الزيلعي(م:743 ھ)(5/ 53)المطبعة الكبرى الأميرية
(والمضارب أمين وبالتصرف وكيل وبالربح شريك وبالفساد أجير وبالخلاف غاصب وباشتراط كل الربح له مستقرض وباشتراطه لرب المال مستبضع) يعني بدفع المال إليه على وجه المضاربة يكون أمينا؛ لأنه قبضه بإذن مالكه لا على وجه البدل والوثيقة۔۔۔ وإنما صار غاصبا بالخلاف لوجود التعدي على مال الغير كالغصب وهذا؛ لأن صاحبه لم يرض أن يكون في يده إلا على الوجه الذي أمره به فإذا خالف فقد تعدى فصار غاصبا فيضمن۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس