سوا ل سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے یہ رقم کاروبا ر کرنے کےلیے مضاربت کے طور پر دی کہ سرمایہ آپ نے لگا یا اور کا م دوسرا شخص کرے اور حاصل شدہ نفع میں آپ دونوں طے شدہ تنا سب کے مطابق شریک ہوں گے اگر معاملہ اسی طرح ہوا ہے تو پھر مضارب(کاروبار کرنے والے شخص)کے لیےوہ رقم آپ کی اجازت کے بغیر کسی اور کو دینا جائز نہیں تھا اور اس رقم کے ضائع ہونے کی صورت میں وہ ذمہ دار ہے۔
تبيين الحقائق،العلامة فخر الدين الزيلعي(م:743 ھ)(5/ 53)المطبعة الكبرى الأميرية
(والمضارب أمين وبالتصرف وكيل وبالربح شريك وبالفساد أجير وبالخلاف غاصب وباشتراط كل الربح له مستقرض وباشتراطه لرب المال مستبضع) يعني بدفع المال إليه على وجه المضاربة يكون أمينا؛ لأنه قبضه بإذن مالكه لا على وجه البدل والوثيقة۔۔۔ وإنما صار غاصبا بالخلاف لوجود التعدي على مال الغير كالغصب وهذا؛ لأن صاحبه لم يرض أن يكون في يده إلا على الوجه الذي أمره به فإذا خالف فقد تعدى فصار غاصبا فيضمن۔