میرے چار چچا اور والد صاحب سب زندہ ہیں۔ ان کے درمیان با قاعدہ کوئی عقدِ شرکت (شراکت داری کا معاہدہ) نہیں ہوا تھا، البتہ سب ایک ساتھ کھاتے پیتے تھے۔ جب میں بڑا ہوا اور کام کاج کے قابل ہوا، اس وقت تک ان کے پاس کوئی خاص سرمایہ نہیں تھا۔ اس کے بعد میں بھی کماتا تھا، اور میرے چچا اور والد صاحب بھی اپنا اپنا کام کرتے اور کماتے تھے۔ ہر ایک کا الگ کاروبار تھا۔ میں کبھی خود الگ کام کرتا، اور کبھی چچا کے ساتھ کام کر لیتا۔ والد صاحب کے ساتھ میں نے نہ کبھی کام کیا، اور نہ ہی ان کے سرمایے سے کوئی کاروبار کیا۔اسی دوران، چند سال بعد ہم سب نے مل کر ایک زمین خریدی، جس میں میرا بھی پیسہ شامل تھا، اور چچا و والد صاحب کا بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس زمین کی تقسیم میں میر احق ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں جب آپ تینوں نے اپنے اپنے پیسے ملاکرمشترکہ زمین خریدی ہے، اورآپ نے اس خریدی گئی زمین میں پیسےاپنےوالدصاحب کو تعاون کے طور پر نہیں دیے بلکہ خود اس میں شریک ہونے کےلئے دیے تھے،تواس صورت میں اس خریدی گئی زمین میں آپ تینوں مشترکہ مالک ہیں۔اوراس زمین میں ہر ایک کی ملکیت کا تناسب اس کے سرمایہ کے بقدر ہے، لہذا اس زمین کی تقسیم میں آپ اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے حق دار ہیں۔لیکن اگرآپ نے اس خریدی گئی زمین میں پیسےاپنے والدصاحب کوتعاون کے طور پر دیے تھے تو پھر اس خریدی گئی زمین میں آپ کا کوئی حق نہیں اور وہ خریدی گئی زمین صرف آپ کے والدصاحب اور چچا کے درمیان ان کے سرمایہ کے تناسب سےمشترک ہے۔
السنن الكبرى (10/ 539) دار الكتب العلمية
عن حبان بن أبي جبلة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل أحد أحق بماله من والده وولده والناس أجمعين
شرح المجلة محمد خالد الاتاسي(4/319)رشيدية
المادة (1398) إذا عمل شخص في صنعته ھوو ابنه الذي في عياله فجمیع الكسب لذلك الشخص ولده يعد معينا لہ كما اذا اعان شخصا ولدہ اللذي في عياله حال غرسه شجرفتلك الشجرة للشخص ولا يكون ولده مشاركا له فيها….. و اجاب ايضاً عن سئوال آخر بقوله : ان ثبت كون ابنه واخويه عابلة عليه. وأمرهم في جميع ما يفعلونه اليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله بيمينه فيما لديه فليتق الله فالجزاء امامه و بين يديه . وان لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الاربعة بلا اشكال وان كان ابنه فقط هو المعين والاخوة الثلاثة بانفسهم مستقلين فهو بينهم اثلاثا بيقين والحكم دائر مع علمه باجماع اهل الدين الحاملين لحكمته
دررالحکام(۳/۲۶)العربیۃ
تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشریکین متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلة على هذه النسبة
الفتاوى الهندية (2/ 301) دار الفكر
وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار، وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره
المبسوط للسرخسي (11/ 151) دار المعرفة
(فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه
فتاوی دارالعلوم دیوبند(۱۳/۷۳)دارالعلوم دیوبند