ایک بندے کے پاس کچھ زمین تھی جو چاچازادوغیرہ کے ساتھ مشترک تھی لیکن اس نے تقریبا ۵۰،۴۰ سال سے خود اس زمین کو آباد کیا اور اس پر درخت وغیرہ لگائے ،ابھی وہ اس کو تقسیم کرنا چاہ ر ہے ہیں تو جو درخت وغیر ہ اس ایک بندے نے لگائے ہیں اس کا کیا حساب ہو گا درخت بھی تقسیم ہوں گے یادرخت وغیرہ کی قیمت مالک کو ملے گی ۔
صورت مسئولہ میں اگر شراکت داری صرف زمین کی حد تک ہوتو درختوں کا مالک صرف لگانے والا ہوگا، البتہ شریک کو یہ حق حاصل ہوگا کہ زمین کی تقسیم ہونے کے بعد درخت کے مالک سے یہ مطالبہ کرےکہ میری زمین سے درختوں کو اکھاڑے اور درخت اکھاڑنے سے اس کی زمین کو جونقصان ہوگا اس کا ضمان شریک سے لے سکتا ہے۔نیزیہ بھی جائز ہے کہ شریک اُکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت مالک کودےکر درختوں کا خود مالک بن جائے۔
الفتاوى الهندية (4/ 370) دار الفكر
إذا استعار من آخر أرضا ليبني فيها أو يغرس فيها ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك، سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء، وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء، كذا في البدائع. فإن كانت الأرض بحال تنقص بذلك إن رضي المعير بالنقص قلعهما، وإن طلب المستعير أن يضمن المعير قيمة البناء والغرس مقلوعا فإنه لا يجبر على ذلك ويكلفه القلع، وإن لم يرض أن يسترد الأرض ناقصة ضمن له قيمة البناء والغرس مقلوعا غير ثابت ولا يلتفت إلى قول المستعير، كذا في المضمرات
الدر المختار (6/ 268)سعید:
(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية
رد المحتار (6/ 268)سعید
(قوله بغير إذن الآخر) وكذا لو بإذنه لنفسه لأنه مستعير لحصة الآخر، وللمعير الرجوع متى شاء. أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه (قوله وإلا هدم البناء) أو أرضاه بدفع قيمته ط عن الهندية
أقول: وفي فتاوى قارئ الهداية: وإن وقع البناء في نصيب الشريك قلع وضمن ما نقصت الأرض بذلك وقد تقدم في كتاب الغصب متنا أن من بنى أو غرس في أرض غيره أمر بالقلع وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو غرس أمر بقلعه إن نقصت الأرض به، والظاهر جريان التفصيل هنا كذلك تأمل
فتاویٰ محمودیہ (14/189)دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی، احسن الفتاویٰ(6/400)مکتبہ اشاعت اسلام انڈیا، فتاویٰ عثمانیہ (7/75) العصر اکیڈمی پشاور