بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسبوق کا سجدہ سہو میں امام کی اقتداء نہ کرنا

سوال

اگر امام نے سجدہ سہو کیا لیکن مسبوق سلام پھیرتے ہی سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس نے سجدہ نہیں کیا اور اپنی نماز بقیہ مکمل کر لی تو کیا یہ نماز ہو جائے گی۔ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مسبوق نے اپنی نماز کے آخر میں سجدہ سہو کر لیا تھا تو اسکی نماز ادا ہوگئی اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔
الھندیة (1/146) بیروت
والمسبوق يتابع الإمام في سجود السهو ثم يقوم إلى قضاء ما سبق به ولا يعيد في آخر صلاته.۔۔۔۔۔۔ ولو لم يتابع الإمام في سجود السهو وقام إلى القضاء لا يسقط عنه ويسجد في آخر صلاته۔
در المختار (1/456) سعید
(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقاآثما وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها۔
رد المحتار (1/598) سعید
(لو قام إلى قضاء ما سبق به وعلى الإمام سجدتا سهو) ۔۔۔(فعليه أن يعود)۔۔۔ (ولو لم يعد كان عليه أن يسجد) للسهو (في آخر صلاته) استحسانا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس