بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرنا

سوال

امام صاحب پر سجدہ سہو واجب نہ تھا لیکن انہوں نے سجدہ سہو کرلیا ان کے پیچھے مسبوق نے بھی سجدہ سہو کرلیا سوال یہ ہے کہ اس سجدہ سہو کی ادائیگی سے مسبوق کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں ۔ امام پر سجدہ سہوواجب نہیں تھا ۔

جواب

صورت مسئولہ ميں مسبوق كی نمازادا ہو گئی۔
درالمختار،کتاب الصلاۃ (2/ 422) رشیدیة
ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد۔
رد المحتار على الدر المختار (2/ 422) رشیدیة
(قوله فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. اهـ۔
الفتاوی التاتارخانیه کتاب الصلاۃ (2/427) فاروقیة
الامام اذا ظن ان علیه  سجدتا السھو فسجد وتبعه المسبوق ان لم یعلم ان الامام لم یکن علیه سجود السھو لم تفسد صلاته وھو المختار۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

18

/

23

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس