بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرلے

سوال

امام سجدہ سہو کا جب سلام پھیرے گا تو مسبوق کےلیے امام کے سجدہ سہو کے سلام پھیرنے کا کیا حکم ہے؟سہواً پھیر لیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

مسبوق امام کےساتھ سجدہ سہوکرتےوقت سلام نہ پھیرے بلکہ بغیرسلام کےسجدہ کرے، اگرمسبوق نےسلام پھیردیا حالاں کہ اسےاپنامسبوق ہونایاد بھی تھا،یعنی یہ یادتھاکہ اس کےذمےنمازکاکچھ حصہ باقی ہےتواس کی نمازفاسدہوجائےگی اگرچہ وہ مسئلہ سے واقف نہ ہو۔البتہ اگرسہوا سلام پھیرا یعنی اسےاپنامسبوق ہونایادنہیں تھا تونمازفاسدنہ ہوگی،اور اپنی نماز کے آخر میں اس پر سجدہ سہو  بھی لازم نہیں ہوگا۔
رد المحتار(2/ 82)سعيد
(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 176)دارالكتب العلمية
ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو دون السلام، بل ينتظر الإمام حتى يسلم فيسجد فيتابعه في سجود السهو لا في سلامه وإن سلم فإن كان عامدا تفسد صلاته، وإن كان ساهيا لا تفسد، ولا سهو عليه؛ لأنه مقتد، وسهو المقتدي باطل، فإذا سجد الإمام للسهو يتابعه في السجود ويتابعه في التشهد، ولا يسلم إذا سلم الإمام؛ لأن هذا السلام للخروج عن الصلاة وقد بقي عليه أركان الصلاة
البحر الرائق شرح (2/ 108)دارالكتاب الإسلامي
ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو لا في السلام فيسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا فلا
(کفایت المفتی (4/430)

مسبوق کا عمداً یا سہواً سجدہ سہو کے سلام میں امام کی متابعت کرنا مسبوق سجدہ سہو ادا کرنے میں تو امام کی متابعت کرے ، یعنی سجدہ سہو امام کے ساتھ ادا کرے ،مگر سلام میں متابعت نہ کرے،یعنی مسبوق بغیر سلام پھیرے امام کے ساتھ سجدہ میں چلا جائے۔اگر مسبوق نے امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو اگر قصداً سلام پھیرا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئی۔اور اگر سہواً سلام پھیرا ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور سجدہ سہو بھی اپنی نماز کے آخر میں لازم نہ ہوگا۔

کذا فی فتاوی محمودیہ (6/556)دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس