حضور اکرمﷺ سے نماز میں رکوع کے لیے جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتےوقت اسی طرح تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے اور رفع یدین نہ کرنا بھی ،اسی طرح صحابہ کرام رضي الله عنهم اور ان کے بعد ائمہ مجتہدین رحمهم الله سے بھی دونوں طرح کا طریقہ اور عمل منقول ہے کہ بعض صحابہ وائمہ نے ایک طریقہ کو اختیار فرمایا اور بعض نے دوسرے طریقہ کو ۔اور یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جس مسئلہ میں حضرات صحابہ کرام رضي الله عنهم سے دونوں طریقے منقول ہوں ان میں سے جسے اختیار کیا جائے درست ہے ،ہاں جن مسائل میں صحابہ کرام رضي الله عنهم سےایک ہی عمل پر اتفاق منقول ہے جیسے بیس رکعات تراویح اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینا وغیرہ ان میں صحابہ کرام رضي الله عنهم کی مخالفت کرنا ناجائز اور گمرا ہی ہے؛ لہٰذا رفع یدین کا مسئلہ حلال وحرام یاجائز ناجائزکانہیں ہے بلکہ محض افضل ،غیر افضل کا ہے ، دونوں طریقوں میں سے جو طریقہ اختیار کیا جائے بالاتفاق نماز اداہوجائے گی ۔البتہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمه الله نے رفع یدین نہ کرنےکو افضل قرار دیا ؛کیونکہ محد ثین اور فقہاءکرام رحمهم الله نے صراحت فرمائی ہے کہ صحابہ وتابعین رضي الله عنهم کا زیا دہ تر عمل رفع یدین نہ کرنے کا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ عالم ِاسلام کے دو عظیم مراکز مدینہ طیبہ اور کوفہ میں موجود صحابہ وتابعین عظام رضي الله عنهم تقریباً سب ہی ترک ِرفع یدین پر عمل پیراتھے ،انہی صحابہ کرام میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه بھی ہیں ،جن کا واقعہ جامع ترمذی اور دیگر متعدد حدیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺکے اس دنیا سے وصال فرمانے کے بعد ایک مجمع میں ارشاد فرمایا
السنن لأبي داود،سليمان بن الأشعث الأزدي(م:275ہـ)(2/67)دار الرسالة العالمية
عن البراء بن عازب قال: رأيت رسول اللہ – صلى اللہ عليہ وسلم – رفع يديہ حين افتتح الصلاة، ثم لم يرفعہما حتى انصرف. (كذا في المسند لأبي يعلى أحمد بن علي الموصلي(م:307ہـ)(3/249)دارالمأمون للتراث، وفي شرح معاني الآثار،أبو جعفر الطحاوي(م:321ہـ)(1/224)عالم الكتب)۔