بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لوگوں کے سامنے وتر کی قضا کرتے ہوئے قنوت سے پہلےہاتھ اٹھانا

سوال

سناگیاہےکہ مثلاکسی آدمی  کی وترکی نماز قضاءہوگئی اورو ہ اگلے دن ظہر کی نمازکےوقت جبکہ نمازی بھی موجود ہیں اسکی قضاءکررہاہےتو تیسری رکعت میں رفع یدین چھوڑدے۔یہ بات  شریعت کی رو سے درست ہے ؟

جواب

اگروتر  کی  نماز  قضاء ہوجائے تو بعد میں لوگوں کے سامنے وتر  کی قضاء کرنے کی صورت میں دعاء قنوت سے پہلےتکبیرکہےلیکن ہاتھ  نہ اُٹھائے ۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/533) رشیدیة کوئتة
(قوله ويكبر) أي وجوبا وفيه قولان كما مر في الواجبات . (قوله رافعا يديه) أي سنة إلى حذاء أذنيه كتكبيرة الإحرام، وهذا كما في الإمداد عن مجمع الروايات لو في الوقت، أما في القضاء عند الناس فلا يرفع حتى لا يطلع أحد على تقصيره۔
 مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، حسن بن عمار الشرنبلالي المصري الحنفي (م:1069هـ) (140) العصرية
وإذا فرغ من قراءة السورة فيها” أي الركعة الثالثة “رفع يديه حذاء أذنيه” كما قدمناه إلا إذا قضاه حتى لا يرى تهاونه فيه برفعه يديه عند من يراه “۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس