بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قضا نماز پڑھنا افضل ہے یا نوافل؟

سوال

تہجد کے وقت یا اشراق وچاشت کے وقت قضا ء شدہ نمازیں ادا کرنا چاہیے یا نفل نماز اداکرنا چاہئیں جیساکہ احادیث مبارک میں ہے کہ قیامت کےدن فرضوں کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائےگا،راه نمائی فرمائیں۔

جواب

قضاء نماز پڑھنا نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے البتہ سنن مؤکدہ،چاشت،اشراق،اور تہجد کے اوقات میں پہلے ان اوقات کے نوافل ادا کر کے بعد میں قضاء نمازیں پڑھ لی جائیں ۔اور جو احادیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ قیامت کے دن فرضوں کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ فرض نماز میں جو سنن، مستحبات کی کمی رہ جائے وہ نوافل سے پوری کر لی جائے گی نہ کہ اصل نماز کی کمی کو پورا کیا جائے گا ۔ اس لیے لازمی ہے کہ قضاء نمازوں کو جلد از جلد ادا کیا جائے۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص:448)رشیدیۃ
 والاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنة المعروفة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي وردت في الأخبار فتلك بنية النفل وغيرها بنية القضاء كذا في المضمرات عن الظهيرية وفتاوى الحجة ومراده بالسنة المعروفة المؤكدة۔
رد المحتار (2/646)رشیدیۃ
 وأما النفل فقال في المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار. اهـ. ط أي كتحية المسجد، والأربع قبل العصر والست بعد المغرب۔
العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 392)
قوله: (فيتكمل بها. . إلخ) اختلفوا في تكافئ النوافل الفرائض، فقيل: لا تكافأها ولو صلى النافلة مدة العمر فمراد الحديث على مشربهم أن النوافل تكافئ ما نقص من دواخل الصلاة، لا أصل الصلاة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس