بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قضاء نماز یاد آنے کی صورت میں پہلے قضاء نماز ادا کرے یا سنت اور وتر

سوال

عشاء کی سنت سے پہلے یا دوران سنت یا وتر سے پہلے یا وتر پڑھنے کے دوران مغرب کی نماز یاد آجائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

قضاء نماز

صورت مسئولہ میں جب آپ کی مغرب کی نماز قضا ہو گئی اور اسے قضا کرنا یاد نہ رہا ،یہاں تک کہ آپ نے عشاءکےفرض ادا کر لیے تو اب اس سے پہلے اگر آپ صاحب ترتیب بھی ہوں تب بھی آپ پر ترتیب ضروری نہیں رہی ،لہٰذادوران نماز یاد آنے کی صورت میں پہلے سنت اور وتر مکمل پڑھئے پھر مغرب کی قضا نماز پڑھ لیجئے ، سنت اور وتر سے پہلے یاد آنے کی صورت میں پہلے سنت اور وترپڑھیں پھر قضا نماز۔
رد المحتار (2/ 68) دار الفكر
وحاصله أنه يسقط الترتيب إذا نسي الفائتة وصلى ما هو مرتب عليها من وقتية أو فائتة أخرى وكذا يسقط بنسيان إحدى الوقتيتين؛ كما لو صلى الوتر ناسيا أنه لم يصل العشاء ثم صلاها لا يعيد الوتر، لقولهم إنه لو صلى العشاء بلا وضوء والوتر والسنة به يعيد العشاء والسنة لا الوتر لأنه أداه ناسيا أن العشاء في ذمته فسقط الترتيب أفاده
رد المحتار (2/ 74) دار الفكر
 وأما النفل فقال في المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار
الفتاوى الهندية (1/ 125) دار الفكر
وفي الحجة الاشتغال بالفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المعروفة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلوات التي رويت في الأخبار
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس