بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

قربانی کاچمڑا اپنے اصول وفروع کو دینا کیسا ہے؟

سوال

قربانی کی کھال اپنے اصول و فروع کو دے سکتا ہے یا نہیں۔ہمارے گاؤں میں ایک شخص اپنے بیٹےکو دیتا ہے اور پھر وہ بیٹا اس کو بازار میں بیچ دیتا ہے،تو کیا وہ رقم استعمال کرنا بیٹےیا والد کے لیے درست ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کی کھال اپنے اصول و فروع کو بھی ھدیۃًوعطیۃً دینا جائزہے ،اور موہوب لہ اس كو بيچ كر رقم استعمال كرسكتا ہے۔ البتہ قربانی کی کھال کی قیمت کو اپنے استعمال میں لانے کی نیت سےخود پيسے كے بدلے ميں فروخت كرنا يا فروخت كرنے كے ليے اپنے بیٹے كو دينا جائز نہيں ہے، اور ایسی صورت حال میں بيچنے کے بعداس رقم كا خود استعمال جائز نہيں ہے ،بلكہ اصول وفروع كے علاوه فقراءپر صدقہ كرنا ضروری ہے۔
إعلاءالسنن(16/7997)دارالفكر
وللمضحي أن يهب كل ذلك أو يتصدق به أو يهديه للغني أو فقير مسلم أو كافر
مجمع الأنهر (2/ 521) دار إحياء التراث العربي
واللحم بمنزلة الجلد في الصحيح حتى لا يبيعه بما لا ينتفع به إلا بعد الاستهلاك (فإن بدل اللحم أو الجلد به) أي بما ينتفع بالاستهلاك جاز و (يتصدق به) لانتقال القربة إلى البدل وقوله – عليه الصلاة والسلام -«من باع جلد أضحيته فلا أضحية له» يفيد كراهة البيع
حاشية الطحطاوي (ص: 721) دار الكتب العلمية بيروت
قوله: “وأصل المزكي وفرعه” لأن الواجب عليه الإخراج عن ملكه رقبة ومنفعة ولم يوجد في الأصول والفروع والإخراج عن ملكه منفعة وإن وجد رقبة وهذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة كالكفارات وصدقة الفطر والنذور لا يجوز دفعها إليهم
الدر المختار (9/543)رشيدية
(فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه)
ردالمحتار(9/543)رشيدية
(قوله فإن بيع اللحم أو الجلد به إلخ) أفاد أنه ليس له بيعهما بمستهلك
الفتاوى الهندية (371/5)العلمية
ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية
امدادالفتاوى(8/240)دارالاشاعت

سوال:   کھال قربانی کا جو تصدق کرنے کا اختیار ہے اس کو اصول یا فروع یا کافر کودے سکتاہے یا نہیں؟

جواب:   ہاں دے سکتا ہے ۔في الهداية:واللحم بمنزلة الجلد في الصحيح.جب دونوں كا حكم ايك ہے اور لحم دینا ان سب مذکورین فی السوال کو جائزہے پس عین جلد بھی دینا درست ہے۔

فتاویٰ محمو دیہ (17/458)جامعہ فاروقیہ کراچی:

سوال :   چرم قربانی کی قیمت اپنے والد یا اولاد کو دینا کیسا ہے ،جبکہ وہ غریب ہوں؟

جواب:        جائزنہیں،اس کو ایسے شخص کو دے دیں جس کو زکوٰۃ دے سکتے ہین ،والد یا اولاد کو زکوٰۃ دینا درست نہیں،چرم قربانی کی قیمت کا بھی صدقہ کرنا واجب ہو تا ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس