گورنمنٹ کے قانون کے مطابق جب پنشنر والدین فوت ہو جائیں ان کی غیر شادی بیٹی یا طلاق بیٹی یا بیوہ بیٹی کے نام پنشن منتقل ہو جاتی ہے۔ اب یہ پنشن والدین کی وفات کے بعد غیر شادی بیٹی کے نام ہو چکی ہے اور اس کے بڑے شادی شدہ بھائی اپنی اس پنشن لینے والی بہن کو کہتے ہیں یہ والدین تو ہمارے بھی تھے لہذا اس پنشن سے ہمیں بھی رقم دو۔ حالانکہ یہ پنشن بیٹی کو گورنمنٹ یتیم ہونے کی وجہ سے جاری کر رہی ہے۔ کیا بھائیوں کا اس پنشن لینے والی بہن سے رقم کا تقاضہ کرنا اور پنشن کی رقم کھانا جائز و حلال ہے؟
بدائع الصنائع (7/ 57)دارالکتب العلمیۃ
لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام – من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث۔
رد المحتار (6/ 759)سعید
لأن التركۃ فی الاصطلاح ماترکہ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية۔
الفقہ الاسلامی وادلتہ(7/5410)رشیدیۃ
لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث،لقولہ علیہ السلام”من ترک مالااوحقافھولورثتہ”۔