مندرجہ ذیل فتوے کی کوئی دلیل حدیث مبارک سے مل جائے تو مہربانی ہوگی
فرض نمازکی آخری دورکعت،اورمغرب کی نمازکی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھناسنت ہے، اگرفرض نمازکی تیسری اورچوتھی رکعت یامغرب کی آخری رکعت میں کسی نےسورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یا کچھ بھی نہیں پڑھا، بلکہ کچھ دیرخاموش کھڑارہ کررکوع کرلیاتونمازدرست ہوجائے گی،اورسجدہ سہوبھی لازم نہ ہوگا،البتہ یہ یادرہےکہ فرض نمازکی آخری دورکعت میں سورہ فاتحہ پڑھناافضل ہے،سورۃ فاتحہ چھوڑنےکی عادت بنانادرست نہیں ہے۔
تیسری اور چوتھی رکعات میں فاتحہ پڑھنا
فرض نمازکی تیسری اورچوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کاپڑھنا واجب نہیں ہےبلکہ محض سنت یامستحب ہے،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےجلیل القدرصحابہ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اورحضرت سعدرضی اللہ عنھم وغیرھم حضرات سے آخری دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ کانہ پڑھنابھی منقول ہے،چنانچہ طبرانی (ج۳ص۹۳)میں ہےکہ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ جب امام ہوتےتھےتوپہلی دورکعتوں میں قراءت کرتےتھےاورآخری دورکعتوں میں نہیں کرتےتھے۔اورمصنف ابن عبدالرزاق (ج۲ص ۱۰۰) میں روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہراورعصرکی پہلی دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ اوراس کےساتھ سورۃ پڑھتے تھےجبکہ آخری دورکعتوں میں قراءت نہیں کرتےتھے۔نیزمصنف ابن ابی شیبہ (ج۱ص ۴۰۸،امدادیۃ:)میں ہے کہ حضرت علی اورابن مسعودرضی اللہ عنھمانےفرمایاکہ پہلی دورکعتوں میں قراءت کرواورآخری دورکعتوں میں تسبیح پڑھو۔
اس سےمعلوم ہواکہ ان حضرات کےسامنےحضورکاکوئی عمل ضرورہوگا،جس کودیکھ کران حضرات نےاس کواختیارکیا۔نیزجن روایات میں تیسری اورچوتھی رکعات میں سورۃ فاتحہ کاپڑھنامنقول ہےوہ سنت کےدرجےمیں ہے۔
صحيح البخاري (1/ 155)محمودیۃ
عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الظهر في الأوليين بأم الكتاب، وسورتين، وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب
الطبرانی (3/93)
وكان ابن سعود إذا كان إماما قرأ في الركعتين الأوليين ولايقرأ في الأخيرين
مصنف ابن عبدالرزاق (2/ 100)
عن عبيد الله بن أبي رافع قال: كان – يعني عليا – يقرأ في الأوليين من الظهر والعصر بأم القرآن وسورة، ولا يقرأ في الأخريين
مصنف ابن أبي شيبة (1/ 408)امدادية
عن علي وعبد الله، أنهما قالا: اقرأ في الأوليين، وسبح في الأخريين