بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فجر کی نماز اور ظہر کی سنتوں میں آخری قعدہ نہ کیا تو کیا حکم ہے؟

سوال

نمبر۱۔ فجر کی نماز میں آخری قعدہ نہ کیا، تیسری رکعت کے بعد یادآیا چار رکعت پوری کر لی اور سجدہ سہو بھی کر لیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟
نمبر ۲۔ظہر کی سنتوں میں پانچویں رکعت کے سجدہ کے بعد یاد آیا کہ میں نے قعدہ آخیرہ نہیں کیا پھر چھٹی رکعت ساتھ ملا کر آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا تو گویا نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

نمبر ۱۔س صورت میں نماز فاسد ہو گئی ہے کیونکہ آخری قعدہ نہیں کیا جو کہ فرض تھا لہٰذا نماز کو لوٹانا ضروری ہے۔
نمبر ۲۔نماز درست ہوگئی،اور اس صورت میں چار رکعات سنت مؤکدہ اوردو نفل ادا ہو گئے۔(مأخذہ،امداد المفتین،۴/۲۲۵)ادارۃ المعارف کراچی(۔
الفتاوى الهندية (1/۱4۳)العلمية
وإذا لم يقعد قدر التشهد في الفجر بطل فرضه بترك القعود على الركعتين
الجوهرة النيرة (1/ 98) دار الفكر
وفي الفتاوى إذا صلى أربعا بتسليمة ولم يقعد في الثانية فالقياس أن تفسد وهو قول محمد وزفر وفي الاستحسان لا تفسد وهو أظهر الروايتين عن أبي حنيفة وأبي يوسف وإذا لم تفسد قال أبو الليث ينوب عن تسليمتين.وقال محمد بن الفضل عن تسليمة واحدة قال وهو الصحيح وعن أبي بكر الإسكاف أنه سأل عن رجل قام إلى الثالثة في التراويح ولم يقعد في الثانية قال إن تذكر في القيام ينبغي أن يعود ويقعد ويتشهد ويسلم وإن قيد الثالثة بسجدة فإن أضاف إليها أخرى كانت هذه الأربع عن تسليمة واحدة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس