بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیر معتدل ممالک میں نمازوں کا حکم

سوال

نماز کے حوالے سے ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ میں یورپ کے ایک ایسے علاقے فن لینڈ میں ہوں جہاں گرمیوں میں رات مختصر ہوتی ہے بلکل اندھیرا بھی نہیں ہوجاتا، مقامی مسجد والوں کی طرف سے جو نقشہ جاری ہوا ہے اس میں مغرب کا وقت 11:45 منٹ، عشاء کا وقت 12:40 منٹ اور فجر کا وقت 01:00بجے شروع ہوتاہے ۔ اب کچھ حضرات ایسے ہیں جو اس نقشہ کے مطابق نماز نہیں پڑھتے بلکہ مکہ مکرمہ کے وقت کےمطابق نماز پڑھتے ہیں۔
نمبر(1)کیا یہاں کے مسلمان مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق نماز پڑھیں گے یا مقامی نقشہ کے مطابق ۔
نمبر(2)نمازوں کے درمیانی وقت کم ہونے کی وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز کی ادئیگی میں بہت دقت ہوتی ہے جس کی وجہ سے بعض حضرات نے مغرب وعشاء کو جمع کرکے پڑھنے کی بھی اجازت دی ہے کیا ایسا کیا جاسکتاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے ہاں جن ایام میں چوبیس(24) گھنٹوں میں دن رات ہوتے ہیں اور غروب آفتاب اور غروب شفق دونوں ہوتے ہیں ان دنوں میں غروب آفتاب کے بعد مغرب اورغروب شفق کے بعد عشاء کی نماز اور طلوع فجر(صبح صادق) کے بعد فجر کی نماز ادا کریں اگرچہ ان نمازوں کے درمیانی وقفہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔
اور جن ایام میں غروب شفق نہیں ہوتا جس کی وجہ سے عشاء کا وقت آتاہی نہیں ان دنوں میں غروب آفتاب کے بعد مغرب اور طلوع فجر کے بعد فجر کی نماز اداکریں اور عشاء کی نمازکےلئے درج ذیل تین صورتوں میں سےجو بھی صورت ممکن ہو اسے باہمی مشورہ سے اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اپنےعلاقے کے درمیانے دنوں میں سے قریب ترین دنوں میں جب عشاء کا وقت آتاہو، اس وقت ان دنوں میں بھی عشاء کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اپنے علاقے کے قریب ترین معتدل علاقے میں جب عشا کاوقت آجائے تو اس وقت یہاں بھی عشاء کی نماز ادا کی جائے۔جب شفق مغرب کی طرف مائل ہو، اس وقت کو مغرب اور عشاء کا مشترک وقت قرار دیاجائے(جس کی ترتیب یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت میں سے پہلا آدھا حصہ مغرب کا وقت اور آخری آدھا حصہ عشاء کا وقت قرار دیاجائے)پھر جب مشرق سے صبح صادق نمودار ہو تو وہ فجر کا وقت ہوگا۔ماخذہ:( حاشیہ امداد السائلین (2/61)ادارۃ المعارف)
آپ نے سوال کے ساتھ جو نقشے بھیجے ہیں ان میں بظاہر عشاء کی نماز کے لئے وقت کی تعیین میں مندرجہ بالا اصولوں کو پیشِ نظر رکھا گیا ہےتاہم واضح رہے کہ آپ کے لئے مکہ مکرمہ کے اوقات کے مطابق نماز پڑھنا درست نہیں بلکہ اس نقشے کے مطابق ہی نماز ادا کریں ۔
نمبر(2) جن ایام میں شفق غروب نہ ہونے کی وجہ سےعشاء کا وقت نہیں آتا ان ایام میں اگر زیادہ انتظار کرنے میں حرج ہو یا کوئی شدید ضرورت ہو تو مغرب کے بعد کچھ وقفہ کرکےعشاء کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کو معمول نہ بنایا جائے۔
صحيح مسلم (4/ 2251) دار إحياء التراث العربي
 عن النواس بن سمعان، قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة……… قلنا: يا رسول الله وما لبثه في الأرض؟ قال: «أربعون يوما، يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر أيامه كأيامكم» قلنا: يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة، أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: «لا، اقدروا له قدره»
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3459) دار الفكر
(قلنا: يا رسول الله! فذلك اليوم الذي كسنة) أي: مثلا (أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: لا، اقدروا له قدره “) ، بل هذا جار على حقيقته، ولا امتناع فيه ; لأن الله تعالى قادر على أن يزيد كل جزء من أجزاء اليوم الأول، حتى يصير مقدار سنة خارقا للعادة، كما يزيد في أجزاء ساعة من ساعات اليوم. انتهى. وفيه أن هذا القول الذي قرره على المنوال الذي حرره لا يفيد إلا بسط الزمان، كما وقع له – صلى الله تعالى عليه وسلم – في قصة الإسراء مع زيادة على المكان، لكن لا يخفى أن سبب وجوب كل صلاة إنما هو وقته المقدر من طلوع صبح وزوال شمس وغروبها وغيبوبة شفقها، وهذا لا يتصور إلا بتحقق تعدد الأيام والليالي على وجه الحقيقة، وهو مفقود، فالتحقيق ما قاله الشيخ التوربشتي – رحمه الله تعالى – وهو أنه يشكل من هذا الفصل قوله – صلى الله تعالى عليه وسلم: ” يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة “، مع قوله: وسائر أيامه كأيامكم، ولا سبيل إلى تأويل امتداد تلك الأيام على أنها وصفت بالطول والامتداد ; لما فيها من شدة البلاء وتفاقم البأساء والضراء ; لأنهم قالوا: يا رسول الله! فذلك اليوم الذي كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: ” لا “. الحديث
شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (11/ 3454) مكة المكرمة – الرياض
وأما قوله صلى الله عليه وسلم: ((اقدروا له قدره)) فقال القاضي وغيره: هذا حكم مخصوص بذلك اليوم، شرعه لنا صاحب الشرع. قالوا ولولا هذا الحديث ووكلنا إلى اجتهادنا، اقتصرنا على الصلوات عند الأوقات المعروفة في غيره من الأيام. ومعناه: إذا مضى بعد طلوع الفجر قدر ما يكون بينه وبين الظهر في كل يوم، فصلوا الظهر، ثم إذا مضى بعده قدر ما يكون بينها وبين العصر، فصلوا العصر، فإذا مضى بعدها قدر ما يكون بينها وبين المغرب، فصلوا المغرب، وكذا العشاء والصبح، ثم الظهر ثم العصر ثم المغرب، وكذا حتى ينقضي ذلك اليوم، وقد وقع فيه صلوات سنة فرائض مؤداة في وقتها. وأما الثاني الذي كشهر، والثالث الذي كجمعة، فيقاس على اليوم الأول في أنه يقدر لهما كاليوم الأول على ما ذكرنا. والله أعلم
رد المحتار (1/ 363)سعيد
(قوله: ومنعا ما ذكره الكمال) أما الذي ذكره الكمال فهو قوله ومن لا يوجد عندهم وقت العشاء أفتى البقالي بعدم الوجوب عليهم لعدم السبب كما يسقط غسل اليدين من الوضوء عن مقطوعهما من المرفقين، ولا يرتاب متأمل في ثبوت الفرق بين عدم محل الفرض وبين عدم سببه الجعلي الذي جعل علامة على الوجوب الخفي الثابت في نفس الأمر وجواز تعدد المعرفات للشيء فانتفاء الوقت المعرف، وانتفاء الدليل على الشيء لا يستلزم انتفاءه لجواز دليل آخر وقد وجد، وهو ما تواطأت عليه أخبار الإسراء من فرض الله تعالى الصلوات خمسا بعد ما أمر أولا بخمسين، ثم استقر الأمر على الخمس شرعا عاما لأهل الآفاق لا تفصيل بين قطر وقطر، وما روي «أنه – صلى الله عليه وسلم – ذكر الدجال، قلنا: ما لبثه في الأرض؟ قال أربعون يوما، يوم كسنة، ويوم كشهر، ويوم كجمعة، وسائر أيامه كأيامكم، قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم؟ قال: لا، اقدروا له»
ناظورة الحق،شهاب الدين المرجاني(ص: 391)استنبول
ومنهم: من يقول بالتقدير، ويعتبر غيبة الشفق في أقرب البلاد إليهم، فإذا مضى من الزمان قدر ما يغيب فيه الشفق في أقرب البلدان إليهم :دخل وقت العشاء، وخرج وقت المغرب، ومقتضى ذلك أن لا يصلوها إلا في نصف الليل بالغيبوبة في أقرب البلدان إليهم، ثم الأقرب فالأقرب حتى يغيب عندهم۔وقد عرفت أن الحق في المسألة أن الوقت ليس بسبب لوجوب الصلاة، وتحققه ليس بمشروط بالغيبوبة أو غيرها من العلامات المذكورة ثم على تقدير سببيته فليس هو من الأسباب والشروط التي لا تحتمل السقوط، فإذا مضى بعد المغرب زمان يغيب فيه الشفق في الأقطار الاستوائية، والأيام الاعتدالية دخل وقت العشاء
تكمة فتح المهم(6/194)دار العلو م كراتشي
طرق تقدير الأوقات في مثل هذه المناطق۔
وأذا  تقرر أن تعيين وقت العشاء في هذه المناطق إنما يقع على أساس تقدير الأوقات، فإن هناك طرقا مختلفة للتقدير، ذكرها الفقهاء۔
1-الطريق الأول : أن يقع تقدير وقت العشاء على أساس أقرب الأيام المعتدلة في نفس تلك المنطقة….۔
2-الطريق الثاني للتقدير: أن تقدر أوقات العشاء والفجر في مثل هذه المناطق على أساس أقرب البلاد  المعتدلة….۔
3-الطريق الثالث للتقدير: أن الشفق ما دام مائلا إلى جهة الغروب، فإنه مشترك بين المغرب والعشاء۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

23

/

93

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس