صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کا مقصد یہ ہو کہ دوسرے ممالک میں ائمہ مساجد فقہ شافعی یا فقہ حنبلی یا مالکی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، حنفی نہیں ہو تے تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ یہ حضرات بھی چونکہ اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں اس لیے ان کی اقتداء میں نماز ادا کرنا بلاشبہ درست ہے بشرطیکہ یہ فقہ حنفی کے مطا بق نماز کی شرائط وارکان کی رعایت کرتے ہوں ۔یعنی جن صورتوں میں احناف کے ہاں وضوٹوٹ جاتا ہے یا نماز نہیں ہو تی ایسے کسی عمل کا ارتکاب نہ کرتا ہو ۔اور اگر آپ کے سوال کا مقصد کچھ اور ہو تو صورتِ حال کی وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال فرمائیں ۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088ھ)(1/ 563)سعيد
ومخالف كشافعي لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدین الشامي(م:1252ھ)(1/563)سعيد
(قوله لكن في وتر البحر إلخ) هذا هو المعتمد، لأن المحققين جنحوا إليه، وقواعد المذهب شاهدة عليه… (قوله إن تيقن المراعاة لم يكره إلخ) أي المراعاة في الفرائض من شروط وأركان في تلك الصلاة وإن لم يراع الواجبات والسنن كما هو ظاهر سياق كلام البحر۔۔۔وفي رسالة [الاهتداء في الاقتداء] لمنلا علي القارئ: ذهب عامة مشايخنا إلى الجواز إذا كان يحتاط في موضع الخلاف وإلا فلا. والمعنى أنه يجوز في المراعي بلا كراهة وفي غيره معها۔