مفتی صاحب کل میں دوکان سے ایک کام کے سلسلے میں بائیک پر آتے ہوئے لیٹ ہو گیا اور جب عصر میں 7 منٹ رہتے تھے (ڈیجیٹل گھڑی میں) تو میں نے عصر کی نماز ایک مسجد میں پڑھنا شروع کی اور جب مغرب کی اذان میں 2 منٹ رہتے تھے تو میری نماز مکمل ہو چکی تھی ، مگر دوران نماز مسجد کے چند بزرگ نمازیوں نے آپس میں مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا ( دوران نماز مجھے بہت برا لگا تھا اور غصہ بھی آرہا تھا) اور پھر سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے بحث بھی شروع کر دی کہ نماز تو قضا ہو چکی ہے یہ کونسا وقت ہے نماز کا وغیرہ، میں نے انکو جواب دیا کہ میری نماز رہ گئی تھی نماز چھوڑ نہیں سکتا تھا وغیرہ ( مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ اس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے) مگر مسجد کے بزرگ نمازیوں نے بولا کہ کوئی فائدہ نہیں نماز قضا ہو چکی ہے یہ وقت نماز کا نہیں ہے ۔ کیا شرعی حکم ہوگا ۔آیا نماز ہوگئی ہے یا نہیں ؟
الدر المختار ،كتاب الصلاة (1/ 370تا373)سعيد
(وكره) تحريما، وكل ما لا يجوز مكروه (صلاة) مطلقا (ولو) قضاء أو واجبة أو نفلا أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو) لا شكر قنية (مع شروق) إلا العوام فلا يمنعون من فعلها؛ لأنهم يتركونها، والأداء الجائز عند البعض أولى من الترك كما في القنية وغيرها (واستواء)… (وغروب، إلا عصر يومه) فلا يكره فعله لأدائه كما وجب۔
رد المحتار،كتاب الصلاة (1/ 373)سعيد
(قوله: إلا عصر يومه) قيد به؛ لأن عصر أمسه لا يجوز وقت التغير لثبوته في الذمة كاملا، لاستناد السببية فيه إلى جميع الوقت كما مر. (قوله: فلا يكره فعله) لأنه لا يستقيم إثبات الكراهة للشيء مع الأمر به، وقيل الأداء أيضا مكروه. اهـ. كافي النسفي. والحاصل أنهم اختلفوا في الكراهة في التأخير فقط دون الأداء أو فيهما، فقيل بالأول ونسبه في المحيط والإيضاح إلى مشايخنا، وقيل بالثاني وعليه مشى في شرح الطحاوي والتحفة والبدائع والحاوي وغيرها على أنه المذهب بلا حكاية خلاف… ولا يخفى أن كلام الشارح ماش على الأول لا الثاني، فافهم، قال في القنية: ويستوفي سنة القراءة؛ لأن الكراهة في التأخير لا في الوقت۔
بدائع الصنائع ،كتاب الصلاة (1/ 583)دار الكتب العلمية
وأما الوقت المكروه لبعض الصلوات المفروضة فهو وقت تغير الشمس للمغيب لأداء صلاة العصر، يكره أداؤها عنده… لكن يجوز أداؤها مع الكراهة حتى يسقط الفرض عن ذمته۔