بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عصر کی نماز اداکرتے وقت سورج غروب ہوجائےیا فجر کی نماز ادا کرتے وقت سورج طلوع ہوجائے

سوال

اگر عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا کی جب مغرب کی اذان ہونے میں5 یا 3 منٹ باقی ہیں تو وہ نماز ادا ہوگی یا قضا؟ اور اسی طرح فجر کی نماز سورج نکلنے سے 2 یا 3 پہلے پڑھ لی جائے تو کیا حکم ہے ۔ اور اسی فجرکی نماز پڑھتے وقت سورج نکل آئے تو کیا فجر کی نماز ہوجائےیا نہیں اور عصر کی نماز اداکرتے وقت سورج غروب ہوجائےتو کیا حکم ہے

جواب

عصر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ادا کرلی یا فجر کی نماز سورج طلوع ہونے سے پہلے ادا کرلی تو وہ نماز ادا کہلائے گی،اور اگرفجر کی نماز ادا کرتے ہوئے سورج طلوع ہوجائے تو فجر کی نماز باطل ہوجاتی ہے، البتہ عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج غروب ہوجائے تو نماز باطل نہیں بلکہ درست ہوجائے گی۔
صحيح مسلم ،کتاب المسجد (266)
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ»۔
قال النووی(قولہ ﷺ من ادرک رکعة من الصبح الخ) ھذا دلیل صریح فی ان من صلی رکعة من الصبح او العصر ثم خرج الوقت قبل سلامه لاتبطل صلوته بل یتمھا وھی صحیحة، وھذا مجمع علیه فی العصر، واما فی الصبح فقال به مالک والشافعی واحمد والعلما کافة الا ابا حنیفة  فانه قال تبطل صلوۃ الصبح بطلوع الشمس فیھا لانة دخل وقت النھی عن الصلوۃ بخلاف غروب الشمس۔
الفتاوى الهندية، کتاب الصلوۃ (1/58)
ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب۔
الدر المختار مع رد المحتار (2/41)
 (وغروب، إلا عصر يومه) فلا يكره فعله لأدائه كما وجب بخلاف الفجر  (قوله: بخلاف الفجر إلخ) أي فإنه لا يؤدي فجر يومه وقت الطلوع؛ لأن وقت الفجر كله كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس