بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ظہر کی سنن قبلیہ رہ جانے کی صورت میں ان کی ادائیگی کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص کی ظہر سے پہلے والی چار سنّتیں رہ گئی ہوں تو بعد میں ان کی حیثیت سنّت ِمؤکدہ کی ہوگی یا غیرِ مؤکدہ کی ہوگی اگر غیر مؤکدہ ہو تو کیا ان کو دو نوافل پر ترجیح ہوگی؟

جواب

کتب فتاوٰی میں مطلق سنّت کے الفاظ آئے ہیں مؤکدہ یا غیر مؤکدہ کی کوئی تفصیل نہیں ملی ۔لہٰذا سنّت ہونے کے بسبب ان چار رکعت کو دو نوافل پر فوقیت حاصل ہوگی اور ان کی ادائیگی راجح قول کے مطابق فرض کے بعد والی دو سنّتوں کے بعد کی جائے۔
اعلاءالسنن (5\2019) دارالفكر
عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا لم يصل أربعا قبل الظهر صلاهن بعدها
عن عائشة، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فاتته الأربع قبل الظهر، صلاها بعد الركعتين بعد الظهر
المحیط البرھانی (2/235) دار أحياء تراث العربي
ثم اختلفت العامة، فيما بينهم، إن هذا يكون سنّة أو نفلاً مبتدأً، وهكذا روي عن أبي حنيفة رحمه الله، وبعضهم قالوا: يكون سنّة، وهكذا روي عن أبي يوسف ومحمد رحمهما الله، وهو قول إبراهيم النخعي وهو الأظهر
(كذا في التاتار خانية(2/302) مكتبة فاروقية كوئتة)
الدرالمختار(2/620) مكتبة رشيدية كوئتة
(فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد، وبه يفتى
ردالمحتار(2/621) مكتبة رشيدية كوئتة
 (قوله وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان
اعلاءالسنن (52019,2018/) دارالفكر
والإتفاق على قضائها وهو إتفاق على وقوعها سنة كما حققه في (الفتح)(شامي) في وقته أي الظهر قبل شفعه عند محمد وبه يفتى وعند أبي يوسف بعده كذا في الجامع الصغير للحسامي قوله وبه يفتى أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان
فتاوٰی عثمانیہ  پشاور(5/300)
”اس لیے راجح یہ ہےکہ چار رکعت سنّت کو دو رکعت سنّت کے بعد ادا کیا جائے ۔فرض کے بعد ان کو ادا کرنے سے ان کی حیثیت  سنّتوں جیسی رہے گی۔”
خیر الفتاوٰی ملتان (2/499)
”راجح یہی ہے کہ پہلے دو رکعت پڑھے پھر چار رکعت قبلیہ۔”
فتاوٰی دینیہ(1/515)
”البتہ اول دو رکعت سنّت  فرض کے بعدادا کر لیں پھر یہ چار رکعت سنّت پڑھیں۔”
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس