ہر طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے۔ ان کو حرم میں ادا کرے۔مقام ابراہیم کے پاس پڑھنا افضل ہے۔ اگر کسی شخص نے حرم میں دو رکعت ادا نہ کی تو جہاں کہیں بھی ہو انکو ادا کرے۔جب تک ادا نہ کرے گا ذمے سے ساقط نہیں ہوں گی ۔اگر اپنے وطن واپس لوٹ آئے تو اپنے وطن میں یہ دو رکعت ادا کرلے ،اس تاخیر کی وجہ سے دم لازم نہیں آئے گا۔
الفتاوى الهنديۃ(1/250)بيروت
واذا فرغ من الطواف یاتی مقام ابراہیم علیہ السلام و یصلی رکعتین وان لم يقدر على الصلاة في المقام بسبب المزاحمة یصلی حيث لا يعسر عليه من المسجد كذا فى الظهيرية ، وان صلى فى غدر المسجد جاز کذا فی فتاوی قا ضیحان۔
رد المحتار (586/3) رشیدیة
والمشهور في عامة الكتب أن صلاتها في المسجد أفضل من غيره وفي اللباب، ولا تختص بزمان ولامکان و لاتفوت ، فلو ترکھا لم تجبر بدم ، ولوم صلاها خارج الحرم ، ولو بعد الرجوع الى وطنه جاز ويكره ، ویستحب مؤكدا اداؤها خلف المقام ۔
البحر الرائق(2/580)رشیدیة
واما صلاة ركعتي الطواف بعد كل اسبوع فواجوبة على الصحیح۔
منحۃ الخالق تحتہ(2/580)رشیدیة
فواجبۃ علی الصحیح ) أی بعد کل طواف فرضا کان أو واجبا أو سنۃ أو نفلا ، ولا یختص جوازها بزمان ولا مکان ولا تفوت، ولو تر کھا لم تجبر بدم، ولو صلاها خارج الحرم ولو بعد الرجوع الى وطنه جاز۔